اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ رواں مالی سال سے گردشی قرض میں نئی شمولیت کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ دی نیوز میں مہتاب حیدر کی رپورٹ کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نااہلی بڑی وجہ بنی، جن کے نقصانات مالی سال 25ء میں 265 ارب روپے رہے جو گزشتہ مالی سال 24ء میں 276 ارب روپے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ڈسکوز کی عدم وصولیوں میں کمی آئی اور یہ مالی سال 25ء میں 132 ارب روپے رہی، جو ایک سال قبل 315 ارب روپے تھی۔ آئی ایم ایف کو بتایا گیا ہے کہ بنیادی ٹیرف یکم جنوری 2026 سے نافذ ہوگا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) رواں سال آٹھ ڈسکوز کی عبوری درخواستوں کا جائزہ لے گی جنہوں نے 455 ارب روپے کی آمدن مانگی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کا اطلاق فی یونٹ 2 سے 4 فیصد بجلی کے نرخ بڑھنے کی صورت میں ہوسکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ نیپرا کرے گی۔
آئی ایم ایف نے حکام پر زور دیا ہے کہ نقصانات کو کم سے کم کیا جائے اور باقی ماندہ خسارہ بجٹ سبسڈی سے پورا کیا جائے۔ مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام نے سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کا تین سے چھ سالہ منصوبہ بھی پیش کیا۔
رپورٹ کے مطابق گردشی قرض مالی سال 25ء کے اختتام پر 1.614 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں تقریباً 780 ارب روپے کم ہے۔ پاور سیکٹر کی سبسڈیز اس سال 1.225 کھرب روپے رہیں۔ حکومت نے بینکوں سے 1.2 کھرب روپے کا انتظام کیا جس کے بدلے صارفین آئندہ پانچ سال تک فی یونٹ 3 روپے سرچارج ادا کریں گے۔
گفتگو میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2026 سے سالانہ ٹیرف ری بیسنگ کی تاریخ یکم جنوری مقرر کردی گئی ہے، جبکہ پہلے یہ یکم جولائی کو ہوتی تھی۔ نیپرا کے قانونی ڈھانچے میں ترمیم بھی زیر غور ہے تاکہ نئے نظام کو تقویت دی جاسکے۔
اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2024 کے دوران ڈسکوز کے بنیادی نقصانات 283.7 ارب روپے رہے۔ سب سے زیادہ خسارہ کوئٹہ (92.65 ارب)، پشاور (53.68 ارب) اور حیدرآباد (39.63 ارب) ڈسکوز نے اٹھایا۔ یہاں تک کہ ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے منافع بخش ادارے بھی سبسڈی کے بعد نقصان میں چلے گئے۔
سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر خاقان نذیب کے مطابق 20 فیصد تک جاری تکنیکی اور تجارتی نقصانات بلنگ، وصولیوں اور ترسیلی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رواں سال کے صرف چھ ماہ میں نقصانات 300 ارب روپے رہے جو پورے سال میں 600 ارب تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات، بہتر گورننس، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور ممکنہ نجکاری یا کنسیشن ماڈلز ہی آگے کا راستہ ہیں۔