جسٹس عبہر گل خان، لاہور ہائیکورٹ کی ایک دہائی بعد پہلی خاتون جج، کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عبہر گل خان، جو حال ہی میں ایک دہائی بعد ہائیکورٹ میں پہلی خاتون جج کے طور پر تعینات ہو کر تاریخ رقم کر چکی ہیں، اب سنگین الزامات کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔

یہ ریفرنس آئین پاکستان کے آرٹیکل 209 کے تحت ایڈووکیٹ عظیم دانیال، رکن لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، نے دائر کیا ہے۔

اس میں جسٹس عبہر پر بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال، جانبداری، رشتہ دار نوازی اور عدالتی آداب کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ریفرنس کے مطابق یہ الزامات سرکاری ریکارڈ، نوٹیفکیشنز اور عدالتی احکامات سے ثابت ہوتے ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف بدانتظامی اور ادارہ جاتی بے ضابطگیوں کے شواہد بھی موجود ہیں جبکہ غیر آئینی فیصلوں نے ان کی عدالتی صلاحیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دوسری جانب، جسٹس عبہر کی عدالتی جدوجہد ایک نمایاں سفر کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ 1972 میں لاہور میں پیدا ہوئیں، پنجاب یونیورسٹی سے 1995 میں ایل ایل بی اور 1998 میں ایل ایل ایم مکمل کیا۔

وہ بتدریج عدلیہ کے مختلف عہدوں پر فائز رہیں، جن میں سول جج، سینئر سول جج، ایڈیشنل سیشن جج اور سیشن جج شامل ہیں۔

رواں برس ان کی لاہور ہائیکورٹ میں تقرری کو خواتین کی نمائندگی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا، کیونکہ وہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ساتھ ہائیکورٹ میں خدمات انجام دینے والی دوسری خاتون جج ہیں۔

ان کی تاریخی تعیناتی کے فوراً بعد دائر ہونے والے اس ریفرنس نے قانونی و عدالتی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کی تقرری صنفی نمائندگی کے لیے ایک پیش رفت تھی، لیکن موجودہ الزامات نے ان کی عدالتی کارکردگی کو کڑی جانچ پر ڈال دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں