عدالتِ عالیہ بلوچستان کا اہم فیصلہ: اختر مینگل کا نام PNIL میں شامل کرنا غیر قانونی قرار

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں سردار اختر مینگل کا نام عارضی قومی شناختی فہرست (PNIL) میں شامل کرنے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ان کا نام فہرست سے حذف کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ PNIL کا کوئی قانونی جواز یا باضابطہ فریم ورک موجود نہیں، اور شہریوں کے بنیادی حقوق صرف قانون کے مطابق ہی محدود کیے جا سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اختر مینگل کو بغیر نوٹس اور قانونی جواز کے سفر سے روکنا آئین کے آرٹیکل 15 اور بنیادی انسانی آزادیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں اور حکومت PNIL کے قیام کا کوئی قانونی جواز فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس موقع پر عدالت نے آئینی درخواست نمبر 1149/2025 منظور کرتے ہوئے شہری آزادیوں کے تحفظ پر زور دیا۔

یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب سردار اختر مینگل، جو بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے سربراہ اور سینئر سیاستدان ہیں، کو ہوائی اڈے پر بیرونِ ملک سفر سے روک دیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ ان کا نام PNIL پر موجود ہے، جس کے بعد انہوں نے عدالتِ عالیہ بلوچستان سے رجوع کیا۔

PNIL ایک متنازعہ فہرست ہے جس کے ذریعے شہریوں کے سفر پر عارضی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ ماضی میں بھی اس فہرست کے خلاف شکایات سامنے آتی رہی ہیں، کیونکہ نہ تو اس کا کوئی واضح قانونی ڈھانچہ ہے اور نہ ہی متاثرہ افراد کو پیشگی نوٹس دیا جاتا ہے۔

سیاسی و قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف اختر مینگل کے لیے بلکہ ان تمام شہریوں کے لیے اہم نظیر ہے جنہیں بغیر قانونی جواز سفری آزادیوں سے محروم کیا گیا۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ بنیادی انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں کے تحفظ کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں