بی آئی ایس پی کو نظرانداز کرنا “غیر ذمے داری” ہوگی، خاتونِ اوّل

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی رہنما اور خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری نے بدھ کے روز کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سیلاب متاثرین تک امداد پہنچانے کا “سب سے مؤثر اور تیز ترین ذریعہ” ہے اور اسے نظرانداز کرنا “غیر ذمے داری” ہوگی۔
ان کا بیان ایک دن بعد سامنے آیا جب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت متاثرین کو بی آئی ایس پی کے بجائے اپنے وسائل سے ذاتی ناموں پر ریلیف کارڈ جاری کرے گی۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیپلز پارٹی نے بارہا وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ امداد کی ترسیل کے لیے بی آئی ایس پی کے مؤثر اور آزمودہ پلیٹ فارم کو استعمال کیا جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر آصفہ نے بتایا کہ پنجاب میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے 40 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے پاس نہ صرف مکمل ڈیٹا موجود ہے بلکہ صلاحیت بھی ہے کہ متاثرین تک براہِ راست امداد پہنچا سکے۔
پی پی پی کی نائب صدر شیری رحمان بھی بارہا سینیٹ کی کمیٹیوں میں بی آئی ایس پی کے استعمال پر زور دے چکی ہیں۔
تاہم پنجاب حکومت اپنے طریقہ کار پر ڈٹی ہوئی ہے۔ پریس کانفرنس میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ریلیف کارڈز کی بدولت امداد براہِ راست متاثرین تک پہنچے گی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: “کیا ہم ان لوگوں سے مشورہ لیں جنہوں نے سندھ کو آثارِ قدیمہ میں بدل دیا؟”
پنجاب حکومت نے متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان بھی کیا ہے جس کے مطابق کھڑی فصلوں کے نقصان پر فی ایکڑ 20 ہزار روپے، مکمل تباہ شدہ گھروں پر 10 لاکھ روپے، جزوی نقصان والے گھروں پر 5 لاکھ روپے اور مال مویشی کے ضیاع پر 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے حال ہی میں بی آئی ایس پی کے استعمال کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پروگرام مالی لحاظ سے غیر پائیدار ہے اور یا تو اس کی مکمل اصلاح کی جائے یا موجودہ شکل میں ختم کر دیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں