اسلام آباد: پاکستان آنے والے ہفتوں میں تقریباً 750 ملین ڈالر (تقریباً 213 ارب روپے) کے زرِمبادلہ لانے کے لیے دو منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن میں کمرشل فنانسنگ اور پہلا پانڈا بانڈ شامل ہیں، جیسا کہ روزنامہ دی نیوز نے رپورٹ کیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت بین الاقوامی بینکوں کے کنسورشیم، جن میں ڈوئچے بینک اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ شامل ہیں، کے ذریعے 300 سے 500 ملین ڈالر حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ اقدام اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستان کو 30 ستمبر 2025 کو میچور ہونے والا 500 ملین ڈالر کا یورو بانڈ واپس کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، نومبر میں چینی کرنسی (رینمنبی) میں 250 ملین ڈالر مالیت کا پہلا پانڈا بانڈ لانچ کرنے کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی کہ پانڈا بانڈ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہ بانڈ تین سالہ میعاد اور مقررہ شرحِ سود پر چین کی انٹربینک مارکیٹ میں صرف ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مشترکہ ضمانتوں کی بدولت، پاکستان سازگار شرائط پر سرمایہ حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے۔
دوسری جانب، فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بااثر ٹیکس نادہندگان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ ملک بھر کے 60 ہزار سے زائد جیولرز کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، مگر صرف 21 ہزار ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اور 10 ہزار کے قریب ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں پنجاب کے 900 جیولرز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
اسی دوران، وزیر اعظم شہباز شریف نے زراعت، آئی ٹی، معدنیات، سیاحت اور قابلِ تجدید توانائی سمیت کلیدی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ اور اصلاحاتی ایجنڈا تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے زور دیا کہ نجی شعبہ اقتصادی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرے گا اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل ملکی معیشت کو استحکام دے گی۔