مستونگ میں جعفر ایکسپریس دھماکے کا شکار، چار افراد زخمی

بلوچستان کے ضلع مستونگ کی تحصیل دشت کے علاقے سپیزند کے قریب جعفر ایکسپریس کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوگئے جبکہ ٹرین کی چھے بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

حکام کے مطابق دھماکہ ریل کی پٹڑی پر نصب بارودی مواد سے کیا گیا۔ یہ ٹرین پشاور سے کوئٹہ جارہی تھی اور اس میں 270 مسافر سوار تھے۔

ترجمان محکمہ صحت بلوچستان اور سول اسپتال کوئٹہ، ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق تین زخمیوں کو سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جبکہ ایک زخمی بچے کو سی ایم ایچ لے جایا گیا۔

پاکستان ریلوے کے ترجمان محمد کاشف نے بتایا کہ امدادی ٹرین، ریسکیو گاڑیاں اور کرینیں فوری طور پر روانہ کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹڑی کی مرمت اور بوگیوں کو ہٹانے کا کام دن کی روشنی میں شروع کیا جائے گا جبکہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

یہ حملہ بلوچستان میں ریل نیٹ ورک پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی کڑی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی اسی مقام کے قریب جعفر ایکسپریس کی چھے بوگیاں دھماکے سے پٹڑی سے اتر گئی تھیں۔

اس سے چند روز قبل سبی میں ایک کوئٹہ جانے والی ٹرین اس وقت بڑے حادثے سے بال بال بچی جب اس کے گزرنے کے فوراً بعد ٹریک پر نصب بم پھٹ گیا۔ جولائی میں بولان میل اور دیگر ٹرینوں پر بھی دھماکے ہوچکے ہیں، جبکہ جیکب آباد اور سکھر میں کئی بار بوگیوں کے اترنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

مارچ میں سبی کے قریب جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرلیا گیا تھا جس میں 21 مسافر اور 4 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، بعدازاں 33 دہشت گردوں کو کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ واقعات ریلوے سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں