حسن صدیقی: پہلا پاکستانی مصنف جس کا کام برطانیہ کے تاریخی کینٹربری کیتھیڈرل میں پیش، عالمی سطح پر پذیرائی مگر وطن میں خاموشی

لاہور کے 25 سالہ حسن صدیقی پہلے پاکستانی مصنف بن گئے جن کا ادبی کام برطانیہ کے سب سے معروف اور دنیا بھر میں مشہور یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ کینٹربری کیتھیڈرل میں پیش کیا گیا۔

ان کا یہ ادبی کام ایک مختصر کہانی ہے جو بے گھری کے موضوع پر ایک مؤثر اور دل کو چھو لینے والی عکاسی پیش کرتی ہے، اور کینٹربری کیتھیڈرل کی جانب سے اسے “خوبصورت اور متاثر کن” قرار دیا گیا۔ یہ شاہکار دسمبر 2024 سے مارچ 2025 تک عوامی نمائش پر رہا اور ہزاروں سیاحوں کے دلوں کو چھو گیا۔ اس تاریخی اعزاز کو برطانیہ کی حکومت نے 7 جولائی 2025 کو، اقوامِ متحدہ نے 19 اگست 2025 کو، یونیسکو نے 20 جولائی 2025 کو، پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن نے 20 مئی 2025 کو تسلیم کیا۔

16 ستمبر 2025 کو پنجاب اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے حسن صدیقی کو سرکاری اعزاز اور مالی انعام دینے کی اپیل کی گئی، مگر آج تک کوئی عمل سامنے نہیں آیا۔

برطانیہ میں کامیابی کے علاوہ، حسن کتاب “ٹوئنٹی برائٹ پاتھس” (جو امریکہ میں شائع ہوئی) کے مصنف ہیں۔

وہ ناسا کی طرف سے مضمون نویسی کا سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں اور ورلڈ اسکالرز کپ میں تحقیق اور تحریر کے شعبے میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ ان کا کام کئی بین الاقوامی ادبی رسائل میں شائع ہو چکا ہے، جن میں اسپل ورڈز پریس، الیومینیشن، اور اسٹوری میکر شامل ہیں۔

وہ دی فیمیل ٹائمز کے بانی بھی ہیں، جو خواتین کی آواز اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے والا ایک غیر منافع بخش ڈیجیٹل میگزین ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں