جی ایچ کیو حملہ کیس: پی ٹی آئی بانی کی واٹس ایپ لنک کے ذریعے پیشی، وکلائے صفائی کا بائیکاٹ

راولپنڈی – پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو منگل کے روز جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں واٹس ایپ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم کے درمیان بات چیت کا انتظام کیا، تاہم وکلائے صفائی نے ناقص آڈیو اور دھندلی ویڈیو پر شدید اعتراض اٹھایا اور کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پی ٹی آئی بانی کی جانب سے دائر دو درخواستیں خارج کر دیں۔ عمران خان کی جانب سے وکیل فیصل ملک اور سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے جبکہ خصوصی پراسیکیوٹرز ظہیر شاہ اور اکرم امین اپنی ٹیم کے ہمراہ موجود تھے۔

فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک انہیں اپنے مؤکل سے مناسب مشاورت کا موقع نہیں دیا جاتا، وہ کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت پر آپ کو بانی پی ٹی آئی سے بات کرنے کی سہولت فراہم کی گئی تھی مگر انہوں نے خود کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر آپ واٹس ایپ کمیونیکیشن کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو ہائی کورٹ جائیں۔

فیصل ملک نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور واٹس ایپ کال کو مناسب ویڈیو لنک نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے مزید وقت دینے کی استدعا کی۔

تاہم عدالت نے ٹرائل ملتوی کرنے سے انکار کرتے ہوئے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پراسیکیوٹر اکرم امین نے کہا کہ وکلائے صفائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

سماعت کے دوران آٹھ گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ مزید گواہوں کو اگلی پیشی پر طلب کیا گیا۔ کیس کی سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں