امریکی صدر ٹرمپ اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات، غزہ صورتحال پر غور

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 80ویں اجلاس کے موقع پر کئی مسلم ممالک کے سربراہان سے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف بھی شامل تھے۔

اس اجلاس میں ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنما شریک ہوئے۔ ملاقات تقریباً پچاس منٹ جاری رہی اور اس کا مرکزی نکتہ غزہ میں جاری انسانی بحران تھا، جہاں مقامی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 65 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آپ سب نے بہترین کام کیا ہے جو قابلِ تعریف ہے۔” ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس ملاقات کو “انتہائی نتیجہ خیز” قرار دیا جبکہ دیگر مسلم رہنماؤں نے میڈیا سے بات نہیں کی۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے ایک منصوبہ پیش کیا جس کے تحت اسرائیل کے بتدریج انخلا اور حماس کے بغیر غزہ میں نئی حکمرانی کے ڈھانچے کی تجویز دی گئی ہے۔ واشنگٹن عرب و مسلم ممالک سے امن فوج بھیجنے اور تعمیر نو کے منصوبوں کی مالی معاونت پر آمادہ ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور انڈونیشیا کے صدر پروبو سبیانتو سے الگ غیر رسمی ملاقاتیں بھی کیں۔

اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں اس سال غزہ کا بحران سرفہرست رہا، حتیٰ کہ یوکرین جنگ کے معاملات بھی پس منظر میں چلے گئے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی 55 منٹ کی تقریر میں اقوامِ متحدہ کو “غیر مؤثر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے لیے سب سے بڑے خطرات ہجرت اور قابلِ تجدید توانائی ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ غزہ کی جنگ کو “فوراً روکا جانا چاہیے۔”

اردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو لوگ خاموش ہیں وہ “اس بربریت کے شریک ہیں۔”

ادھر یورپ کے مزید کئی ممالک، جن میں فرانس، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، موناکو اور انڈورا شامل ہیں، فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں