فرانس نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا، صدر میکرون کا تاریخی اعلان

اقوام متحدہ میں منعقدہ ایک اہم کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں تاکہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔

انہوں نے کہا، “ہم دنیا کے دیگر ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہ تاریخی قدم اٹھائیں جو دو ریاستی حل کے نفاذ کی کوششوں کو تقویت دے گا۔” سعودی وزیر خارجہ نے اس موقع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی کوششوں کو سراہا۔

یہ کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں ایسے وقت منعقد ہوئی جب غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں اور مغربی کنارے میں پرتشدد واقعات جاری ہیں۔ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کی “جارحیت، وحشیانہ جرائم اور عرب و مسلم ممالک پر بار بار حملوں” کو خطے اور دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دو ریاستی حل ہی “منصفانہ اور دیرپا امن” کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ جنرل اسمبلی کے نیویارک ڈیکلیریشن کو 142 ووٹوں سے منظور کیا گیا جو فلسطینی عوام کے حق میں عالمی برادری کے عزم کا ثبوت ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے حماس پر زور دیا کہ وہ اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے اور کہا کہ غزہ کی حکومت میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی مذمت بھی کی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جبر کے خلاف آواز بلند کرنا دنیا کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فلسطینی وفد کو مکمل نمائندگی نہ دینے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کئی دہائیوں کی سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے بعد اب دو ریاستی حل ہی واحد راستہ بچا ہے۔

ایک تاریخی اعلان میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، “آج فرانس فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ یہ فیصلہ امن کے قیام کی کوششوں کا حصہ ہے۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فرانس فلسطین میں سفارت خانہ صرف اسی وقت کھولے گا جب غزہ میں جنگ بندی ہو جائے اور تمام مغوی رہا کر دیے جائیں۔

فلسطینی اتھارٹی نے فرانس کے فیصلے کو “تاریخی اور جرات مندانہ قدم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے اور دو ریاستی حل کو عملی شکل دینے کی حمایت کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں