تہران: ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ہفتے کو اعلان کیا کہ مغربی یورپی ممالک کے اقدامات کے بعد ملک نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ایٹمی تعاون معطل کر دیا ہے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2015 کے ایٹمی معاہدے کے تحت “اسنیپ بیک” میکانزم استعمال کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ میکانزم برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے گزشتہ ماہ فعال کیا تھا۔
ایرانی کونسل کے بیان میں کہا گیا: “ایرانی ایٹمی مسئلے پر تین یورپی ممالک کے غیر دانشمندانہ اقدامات نے ایجنسی کے ساتھ تعاون کے راستے کو مؤثر طریقے سے روک دیا ہے۔”
ایران نے الزام لگایا کہ یورپی طاقتوں نے IAEA کے ساتھ اس کے تعاون اور مسائل حل کرنے کی پیش کردہ تجاویز کو نظر انداز کیا۔ رواں ماہ کے آغاز میں تہران اور IAEA کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ایجنسی کو ایران کی ایٹمی تنصیبات میں معائنہ دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جانی تھی۔ یہ معائنہ اس وقت معطل ہوا تھا جب اسرائیل اور بعد ازاں امریکہ نے ایران کی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
2015 میں طے پانے والے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کے تحت ایران نے اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم یہ معاہدہ 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے یکطرفہ انخلا کے بعد تقریباً ختم ہو گیا۔
دوسری جانب، روسی مندوب واسلی نیبینزیا نے سلامتی کونسل میں ووٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک نے بارہا JCPOA کی خلاف ورزی کی ہے اور طے شدہ تنازعہ حل میکانزم کو نظرانداز کیا ہے۔