پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی دفاعی معاہدہ، دیگر ممالک کی دلچسپی اور بھارت کا محتاط ردعمل

ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد کچھ دیگر ممالک نے بھی ایسے اسٹریٹجک معاہدوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

یہ معاہدہ بدھ کے روز ریاض کے الیمامہ پیلس میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان دستخط ہوا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور مئی میں پاکستان و بھارت کے درمیان حالیہ خونریز تصادم کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کون سے ممالک اس نوعیت کے معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں، البتہ بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اچانک طے نہیں ہوا بلکہ کئی ماہ کی سفارت کاری کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ماضی میں بھی غیر رسمی دفاعی تعاون موجود تھا، جسے اب باضابطہ شکل دے دی گئی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ ہے اور دونوں ملک اس پر خوش ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سعودی عرب نے مشکل وقتوں میں پاکستان کا ساتھ دیا، چاہے وہ پابندیوں کا دور ہو یا 2022-23 میں آئی ایم ایف پروگرام کے دوران مالی امداد کی ضرورت۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ اس معاہدے میں جوہری ہتھیاروں کا کوئی ذکر نہیں، تاہم امکان ہے کہ یہ تعاون خلیجی ممالک تک بھی بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری نیت جارحیت کی نہیں، لیکن اگر کسی ایک فریق کو خطرہ ہوا تو یہ معاہدہ فعال ہو جائے گا۔” تاہم ایک روز قبل انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ پاکستان کی تمام دفاعی صلاحیتیں اس معاہدے کے تحت دستیاب ہوں گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ حالیہ بھارت کے ساتھ تنازعے کے تناظر میں یہ ترقی دونوں ممالک کے لیے مثبت ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد پیش کی۔

بھارت نے اس معاہدے پر محتاط ردعمل دیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی توقع رکھتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ تعلقات میں باہمی مفادات اور حساس پہلوؤں کو مدنظر رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور سعودی عرب کے درمیان تیزی سے گہری ہوتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے، خصوصاً توانائی کے شعبے میں، جہاں دونوں ممالک خام تیل اور پیٹرو کیمیکل منصوبوں پر تعاون بڑھا رہے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اس معاہدے سے پہلے ہی آگاہ تھے اور اب اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور بھارت تین بڑی جنگوں کے علاوہ متعدد جھڑپوں میں آمنے سامنے آچکے ہیں، جن میں مئی کا چار روزہ تصادم حالیہ دہائیوں کا سب سے شدید معرکہ تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں