اسلام آباد میں وکلاء کا احتجاج پرتشدد، 200 سے زائد وکلاء کے خلاف مقدمہ درج

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعرات کو وکلاء کا احتجاج پرتشدد جھڑپوں میں بدل گیا جس کے بعد سیکریٹریٹ تھانے میں 200 سے زائد وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

ایف آئی آر نمبر 533/25 اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی کی مدعیت میں درج کی گئی جس میں معروف وکلاء نعیم حیدر پنجوتھ اور انتظار حیدر پنجوتھ سمیت 200 سے زائد نامعلوم وکلاء کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق وکلاء نے سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے پر دھاوا بولا، پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر تشدد کیا اور پتھراؤ و لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ احتجاج کے دوران سرکاری اور نجی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔

پولیس نے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 440، 148، 149، 324، 506(ii)، 427 کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7 بھی شامل کی ہے۔ اس کے علاوہ Lawyers Welfare and Protection Act 2023 کے تحت بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق جھڑپ کے دوران وکلاء کی باہمی کشیدگی میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور دیگر عہدیداران کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بار کے سیکریٹری منظور ججا نے کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی جبکہ بار قیادت نے ملوث وکلاء کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

یہ واقعہ وکلاء برادری میں بڑھتی ہوئی بد نظمی اور عدالتی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑا کر رہا ہے، جس کے بعد عدالتوں کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں