اسلام آباد — اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کو عہدے پر بحال کر دیا ہے اور جسٹس بابر ستار کا عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ معطل کر دیا۔
ڈویژن بنچ جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل تھا، جس نے چیئرمین پی ٹی اے کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی۔ اس اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے اور تعیناتی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ غیر منصفانہ اور قانونی طور پر درست نہیں تھا۔
عدالت میں وکلاء کی بحث
چیئرمین پی ٹی اے کے وکیل قاسم ودود نے عدالت کو بتایا کہ رولز کو کالعدم قرار دینے سے پی ٹی اے کا پورا ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبر ایڈمنسٹریشن کی تشکیل کے لیے قانون سازی کے تحت بنائی گئی پوسٹ کو کالعدم قرار دینا ادارے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔
وکیل نے مزید کہا کہ اٹارنی جنرل کو سیکشن 27 اے کے تحت نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا، اور ہمارے اعتراضات پر مشتمل درخواستوں کو بھی زیر غور نہیں لایا گیا۔
اس موقع پر جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ یہ وضاحت کی جائے کہ پی ٹی اے خود کس حیثیت میں اس کیس میں متاثرہ فریق ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر وکلاء کی پیشی
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر وکلاء بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد چیئرمین پی ٹی اے کی برطرفی کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے انہیں عہدے پر بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا۔