اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ “اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر ہونے والی جارحیت دونوں پر حملہ تصور ہوگی اور دونوں مل کر اس کا دفاع کریں گے۔ یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان بدھ کو ریاض کے الیمامہ پیلس میں طے پایا۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں وضاحت کی کہ اس معاہدے کے دروازے دیگر عرب ممالک کے لیے بھی کھلے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ معاہدہ نیٹو طرز کا دفاعی انتظام ہے، جس میں کسی بھی فریق پر حملہ دونوں کے خلاف تصور ہوگا۔ یہ جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی معاہدہ ہے۔”
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان کی تمام صلاحیتیں بشمول ایٹمی قوت، قومی دفاع کے لیے اس معاہدے کے تحت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایک ذمہ دار ایٹمی قوت رہا ہے اور کبھی عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی، اس کے برعکس اسرائیل نے کبھی اپنے نیوکلیئر پروگرام کا معائنہ نہیں کروایا۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فوجی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پاکستان کی افواج اور فضائیہ کے دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں تعینات ہیں۔ 1980 کی دہائی میں مسجد الحرام واقعہ کے بعد پاکستانی کمانڈوز نے سعودی افواج کے ساتھ مل کر مقدس مقامات کا دفاع کیا تھا۔ اس معاہدے کو اسی تاریخی تعاون کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلق صرف دفاعی نہیں بلکہ مقدس مقامات کے تحفظ سے جڑا ایک “مقدس فریضہ” بھی ہے۔
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں اسرائیلی جارحیت اور قطر پر حملے کے بعد عرب دنیا اجتماعی سلامتی کے نئے انتظامات پر غور کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس معاہدے سے نہ صرف پاکستان کو اسٹریٹجک فوائد حاصل ہوں گے بلکہ سعودی سرمایہ کاری اور معاشی تعاون بھی مستحکم ہوگا۔
یہ دفاعی معاہدہ بلاشبہ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں سب سے بڑا باضابطہ قدم ہے جو خلیجی خطے کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کا حصہ بن رہا ہے۔