شاہ چارلس نے ڈونلڈ ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا، برطانیہ میں دوسرا تاریخی دورہ شروع

شاہ چارلس نے بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تاریخی دوسرے سرکاری دورے کے موقع پر شاندار انداز میں استقبال کیا۔ یہ دورہ بے مثال شان و شوکت، سخت حفاظتی انتظامات، نئی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری اور مجوزہ احتجاجوں کے ساتھ شروع ہوا۔

ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ونڈزر کیسل پہنچے، جو دنیا کا سب سے پرانا اور بڑا زیرِاستعمال قلعہ ہے اور تقریباً ایک ہزار سال سے برطانوی شاہی خاندان کی رہائش گاہ رہا ہے۔ یہاں انہیں خصوصی سرکاری پروٹوکول دیا گیا جس میں گھوڑا گاڑی کی سواری، توپوں کی سلامی، فوجی طیاروں کی فلائی پاسٹ اور شاندار ضیافت شامل تھی۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ دور میں کسی غیر ملکی مہمان کے لیے سب سے بڑا فوجی و شاہی استقبال ہے۔

ٹرمپ، جو شاہی روایات کے مداح ہیں، نے اپنی خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا: “مجھے برطانیہ سے محبت ہے۔ یہ ایک بہت خاص جگہ ہے۔”

وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر اس موقع کو دونوں ممالک کے ’’خصوصی تعلقات‘‘ کو مزید مستحکم کرنے، تجارتی تعلقات گہرا کرنے، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے اور یوکرین و اسرائیل کے مسائل پر بات چیت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران ایک بڑی ٹیکنالوجی ڈیل بھی سامنے آئی ہے، جس کے تحت مائیکروسافٹ، گوگل، این ویڈیا اور اوپن اے آئی سمیت بڑی کمپنیوں نے برطانیہ میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور نیوکلئیر انرجی کے منصوبوں کے لیے 31 ارب پاؤنڈ (42 ارب ڈالر) سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

تاہم، دورے کے دوران چیلنجز بھی ہیں۔ ٹرمپ برطانوی عوام میں غیر مقبول ہیں جبکہ اسٹارمر خود بھی عوامی حمایت اور معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔ مرحوم جیفری ایپ اسٹیئن سے وابستہ تنازعات دوبارہ سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ اسٹارمر نے گزشتہ ہفتے ایپ اسٹیئن سے روابط پر برطانوی سفیر پیٹر مینڈلسن کو عہدے سے ہٹا دیا تھا، جب کہ ٹرمپ کے ماضی کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود منگل کو مظاہرین نے ونڈزر کیسل کی دیوار پر ٹرمپ اور ایپ اسٹیئن کی تصاویر پروجیکٹ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ پولیس نے اس موقع پر چار افراد کو گرفتار کیا۔ لندن میں بھی ’’اسٹاپ ٹرمپ کولیشن‘‘ کے زیر اہتمام بڑے پیمانے پر مظاہروں کا امکان ہے، جس کے لیے 1,600 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

عوامی رائے منقسم ہے۔ کچھ شہری ٹرمپ کی دعوت پر برہم دکھائی دیے، جبکہ دیگر نے اسے اسمارٹ پالیسی اور برطانیہ کی ’’سافٹ پاور‘‘ کے استعمال سے تعبیر کیا۔ ایک وکیل کرسٹی رابرٹشا (54 سالہ) نے کہا: “ہم اس مشکل صورتحال کا بہترین استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

اپنا تبصرہ لکھیں