پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خضدار میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران پانچ “بھارت نواز دہشت گردوں” کو ہلاک کردیا۔
ترجمان کے مطابق 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب کارروائی اس اطلاع پر کی گئی کہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد علاقے میں موجود ہیں۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں پانچ دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا جبکہ ہلاک دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
فوج کے ترجمان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے قوم کے عزم کو دہراتی ہیں۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پیر کے روز بلوچستان کے کیچ ضلع میں دھماکے کے نتیجے میں ایک افسر سمیت پانچ سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ اس سے قبل خیبر پختونخوا کے لکی مروت اور بنوں میں آپریشن کے دوران 31 دہشت گرد مارے گئے تھے جبکہ 12 ستمبر کو مستونگ میں چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ 7 ستمبر کو خضدار کے نال علاقے میں ایک بم دھماکے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
گزشتہ ماہ سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 50 دہشت گردوں کو چار روزہ کارروائی کے دوران ہلاک کیا تھا۔
ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کی تحصیل پرنگ میں منگل کے روز پولیس کارروائی کے دوران فائرنگ سے ایک اہلکار شہید اور ایک افسر شدید زخمی ہوگئے۔
ڈی پی او محمد وقاص کے مطابق اطلاع ملی تھی کہ پشاور کے چند اشتہاری دراب مجوکی علاقے میں موجود ہیں۔ پولیس ٹیم نے ڈی ایس پی زرداد خان کی سربراہی میں چھاپہ مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او پرنگ کے گن مین کانسٹیبل فصیح الدین موقع پر شہید ہوگئے جبکہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) قیس خان شدید زخمی ہوئے۔
ملزمان فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے شاہ سعود، روخیئل، یاسین اور صدام کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔