اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ملتوی کر دی اور قرار دیا کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں زیر سماعت ہے، اس لیے ہائی کورٹ میں بھی یہ کیس فیصلے تک زیر التوا رہے گا۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت کے سامنے ایک اہم قانونی سوال ہے کہ اگر کوئی معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا ہو تو کیا اسے بیک وقت ہائی کورٹ میں بھی سنا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری، جنہیں دسمبر 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا، کو عدالتی فرائض سے روک دیا گیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کی تعیناتی سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور اہلیت کے معاملات پر کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
عدالت نے سماعت کے دوران سینئر قانون دان بیرسٹر ظفر اللہ خان اور اشتر اوصاف کو عدالتی معاون مقرر کیا جبکہ اٹارنی جنرل سے بھی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر معاونت طلب کی گئی۔
درخواست گزار ایڈووکیٹ میاں داؤد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ جسٹس جہانگیری کی تعیناتی آئینی تقاضوں کے منافی ہے اور یہ عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرتی ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت ملتوی کر دی اور تحریری حکم نامہ جاری کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک معاملہ آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔ اس دوران جسٹس جہانگیری عدالتی کام سے معطل رہیں گے۔