اسلام آباد — میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے منگل کو بتایا کہ جاپانی حکام نے 22 پاکستانی شہریوں کو واپس بھیج دیا جو خود کو فٹبال ٹیم ظاہر کر کے جاپان داخل ہونا چاہتے تھے۔
ایف آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ ملزم ملک وقاص نے گولڈن فٹبال ٹرائل کے نام سے جعلی کلب رجسٹرڈ کرایا اور ہر شخص سے بیرون ملک بھیجنے کے لیے چار ملین روپے وصول کیے۔
وقاص نے نہ صرف کھلاڑیوں کو پیشہ ور فٹبالرز جیسا بننے کی تربیت دی بلکہ جعلی دستاویزات بھی تیار کیں، جن میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کی فرضی رجسٹریشن اور وزارتِ خارجہ کے جعلی کاغذات شامل تھے۔ ان دستاویزات میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ جاپان میں میچز شیڈول ہیں۔
یہ گروپ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جاپان گیا لیکن جاپانی حکام نے کاغذات کی جانچ پڑتال پر جعل سازی پکڑ لی اور تمام افراد کو ڈی پورٹ کر دیا۔
ایف آئی اے نے ملک وقاص کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ دورانِ تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے جنوری 2024 میں بھی اسی طریقے سے 17 افراد کو جاپان بھجوایا تھا۔
حکام کے مطابق بارڈر چیکنگ سخت ہونے کے بعد انسانی اسمگلرز نئے حربے اختیار کر رہے ہیں۔