اسلام آباد/یروشلم/غزہ: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے یروشلم میں دو گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل “ایک دوسرے کے تحفظ کے لیے ساتھ ساتھ کھڑے رہیں گے”۔ ان کے بقول، “روبیو کا دورہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔”
یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب دوحہ میں عرب و اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس اسرائیل کے قطر پر حملے اور غزہ پر مسلسل بمباری کے خلاف مشترکہ اعلامیہ جاری کر رہا تھا۔ نیتن یاہو نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیل “جہاں بھی حماس موجود ہو وہاں کارروائی کرے گا”۔
مارکو روبیو نے بھی اسرائیلی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ “حماس کو ایک مسلح عنصر کے طور پر ختم ہونا چاہیے تاکہ خطے میں امن و سلامتی قائم ہو۔” انہوں نے دوحہ پر حملے پر کوئی تنقید نہیں کی اور کہا کہ “ہم مستقبل پر توجہ دینا چاہتے ہیں، ماضی پر نہیں۔”
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کی حالیہ جارحیت پر منگل کو ہنگامی اجلاس بلایا جائے گا۔ کونسل کو اس سلسلے میں دو باضابطہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، ایک پاکستان کی جانب سے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اور دوسری کویت کی جانب سے خلیجی تعاون کونسل (GCC) کی طرف سے۔ یہ اجلاس کونسل کے قیام 2006ء سے اب تک دسویں ہنگامی بحث ہو گی۔
غزہ میں اسرائیلی محاصرے کے باعث انسانی المیہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق پیر کے روز خان یونس کے ناصر ہسپتال میں چار نومولود بچے اور تین قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے خوراک اور ادویات کی کمی کے باعث جاں بحق ہوگئے۔ وزارت کے مطابق اب تک بھوک اور قحط کے باعث 422 افراد، جن میں 145 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسی دوران اسرائیلی طیاروں نے شمالی غزہ کے رہائشی علاقوں پر بمباری جاری رکھی جس میں مزید درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی انتہا پسند وزیرِ برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے بیان دیا کہ “ہم مشن مکمل کریں گے، غزہ پر قبضہ کریں گے اور وہاں پولیس اہلکاروں کے لیے عالیشان کالونیاں تعمیر کریں گے۔”
عالمی سطح پر اسرائیلی بستیوں کے خلاف آوازیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ اوکسفیم سمیت 80 تنظیموں نے “اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرو” مہم کا آغاز کر دیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قابض فلسطینی علاقوں میں بنائی جانے والی غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں ختم کی جائیں۔