ٹک ٹاک اسٹار اور سوشل میڈیا انفلوئنسر سامعیہ حجاب کا وہ مقدمہ جو اغوا اور قتل کی دھمکیوں کے ہولناک الزامات سے شروع ہوا تھا، بالآخر صلح اور مفاہمت پر اختتام پذیر ہوا۔ اگرچہ قانونی کارروائی مکمل ہوچکی ہے، لیکن اس کیس نے جو وسیع بحث چھیڑی، خاص طور پر وِکٹِم بلیمِنگ اور خواتین پر تشدد کے حوالے سے، وہ آج بھی معاشرے میں گونج رہی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب سامعیہ حجاب نے اپنے سابق منگیتر حسن زائد پر اسلام آباد میں اپنے گھر کے باہر اغوا کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حسن زائد کئی روز سے ان کا پیچھا کر رہا تھا اور بار بار تحائف دے کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ 31 اگست کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے، اس نے مبینہ طور پر زبردستی انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی اور مزاحمت پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہوئی جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
تھانہ شالیمار میں درج ایف آئی آر کے مطابق، سامعیہ حجاب نے الزام لگایا کہ حسن زائد نے ان کا موبائل فون چھیننے اور زبردستی لے جانے کی کوشش کی جبکہ منگنی ٹوٹنے کے بعد بھی ہراساں کرتا رہا۔ مقدمے کے دوران دونوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئیں جس پر سامعیہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ حسن زائد ان کے سابق منگیتر ہیں مگر جھوٹے بیانیے کی تردید کی۔
آن لائن ردعمل پر انہوں نے کہا: “اگر مجھے اپنی دوست ثنا یوسف کی طرح قتل کر دیا جاتا تو لوگ ہمدردی کرتے، مگر چونکہ میں زندہ ہوں اس لیے الزام تراشی ہو رہی ہے۔” یہ بیان اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں وکٹم بلیمِنگ کا رویہ کس قدر عام ہے۔ معروف ریپر علی گل پیر نے بھی تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا: “وِکٹِم بلیمِنگ کرنے والے ناکام لوگ ہیں۔ تحفے دینے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی انسان کے مالک بن جائیں اور جب چاہیں اغوا کر لیں۔”
تاہم تازہ ترین سماعت میں معاملہ غیر متوقع طور پر ختم ہوگیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری عامر ضیاء کے روبرو سامعیہ حجاب نے عدالت کو بتایا کہ وہ کیس واپس لے رہی ہیں اور انہیں ملزم کی ضمانت یا بریت پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کے بیان کے بعد عدالت نے حسن زائد کی ضمانت منظور کر لی۔
بعد ازاں دونوں فریقین نے تصدیق کی کہ وہ ایک دوسرے کو “خدا کے واسطے” معاف کر چکے ہیں۔ یوں ایک ایسا مقدمہ، جو سنگین الزامات اور تنازع سے شروع ہوا تھا، صلح اور مفاہمت پر ختم ہوا، لیکن اس کے سماجی اور ثقافتی اثرات بدستور قائم ہیں۔