ایمان مزاری کی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف ہراسگی کی شکایت

اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور ایمان مزاری کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد معاملہ سنگین ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایمان مزاری نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کی خواتین ہراسمنٹ انکوائری کمیٹی میں باقاعدہ شکایت جمع کرا دی ہے۔ یہ کمیٹی جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی سربراہی میں کام کر رہی ہے اور شکایت اُن کے کورٹ ایسوسی ایٹ کے ذریعے جمع کرائی گئی۔

شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے ایمان مزاری کے بارے میں ’’جنسی نوعیت کے اور دھمکی آمیز ریمارکس‘‘ دیے۔ شکایت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کی انکوائری خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون کے تحت کی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو اسے سپریم جوڈیشل کونسل کو کارروائی کے لیے بھجوایا جائے۔

متنازعہ ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی طلبی

دوسری جانب ایمان مزاری اور اُن کے ساتھی ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹ کیس کی کارروائی بھی جاری ہے۔

پیر کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں مقدمے کا چالان جمع کرا دیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ اس مقدمے کی سماعت کریں گے جبکہ عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ اگلی سماعت پر ملزمان کو چالان کی نقول فراہم کی جائیں۔ اگلی سماعت 17 ستمبر کو ہوگی۔

یہ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے درج کیا گیا تھا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دونوں ملزمان نے سوشل میڈیا پر ایک ایسا مواد شیئر کیا جو ’’قانون کے منافی اور اشتعال انگیز‘‘ تھا۔ اس سے قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کنفرم کر رکھی ہے۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری، جو ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں، گزشتہ کئی ماہ سے مختلف قانونی معاملات میں گھری ہوئی ہیں۔ اُن کے خلاف بعض متنازعہ بیانات اور ٹویٹس پر بغاوت اور سائبر کرائم کے مقدمات درج کیے گئے جبکہ وہ سماجی و قانونی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اُن کی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے تلخ کلامی نے معاملے کو نیا رخ دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں