دبئی: ایشیا کپ 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے بعد مصافحہ نہ کرنے کے تنازع نے سنگین صورت اختیار کرلی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور میری لیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کو باضابطہ شکایت درج کرا دی ہے، جس میں میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ کو جاری ایونٹ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پی سی بی کی شکایت کے مطابق ٹاس کے موقع پر دونوں کپتانوں کو مصافحہ نہ کرنے کی ہدایت خود پائیکرافٹ نے دی تھی، جو نہ صرف کھیل کی روح بلکہ ایم سی سی کے قوانین کے بھی خلاف ہے۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ “میچ سے پہلے اور بعد کسی قسم کا مصافحہ نہیں ہوا، جو کھیل کی قدیم روایت اور جذبۂ کرکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔” مزید کہا گیا کہ پائیکرافٹ “اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے” اور آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ٹاس پر بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔ یہی رویہ میچ کے اختتام تک جاری رہا۔
کرکٹ کے میدان میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 9 وکٹوں کے نقصان پر 127 رنز بنائے۔ آغاز مایوس کن رہا، سیم ایوب بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے جبکہ محمد حریس صرف تین رنز پر پویلین لوٹ گئے۔ صاحبزادہ فرحان نے 40 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، جبکہ فخر زمان نے 17 رنز بنائے۔ آخر میں شاہین آفریدی نے 16 گیندوں پر 33 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں چار چھکے شامل تھے۔ فہیم اشرف (11) اور صوفیان مقیم (10) نے بھی مختصر مگر کارآمد رنز جوڑے۔
بھارت نے ہدف 16 اوورز سے بھی پہلے باآسانی حاصل کرلیا۔ یادو 47 رنز کے ساتھ ناقابلِ شکست رہے، تلک ورما نے 31 اور ابیشیک نے صرف 13 گیندوں پر 31 رنز جڑ دیے۔ بھارت نے سات وکٹیں باقی ہوتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔
تاہم میچ کا اصل موضوع کھیل نہیں بلکہ کھیل کے بعد کا رویہ بنا۔ بھارتی کھلاڑیوں نے روایتی مصافحے سے انکار کرتے ہوئے صرف اپنے ساتھیوں سے ہاتھ ملایا اور ڈریسنگ روم کی طرف روانہ ہوگئے، جبکہ پاکستانی کھلاڑی شکست کے باوجود میدان میں مصافحے کے انتظار میں موجود رہے۔
ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اس رویے کو “انتہائی مایوس کن” قرار دیا اور کہا کہ کھیل میں سیاست کو شامل کرنا کھیل کی روح کے منافی ہے۔ سابق فاسٹ بولر شعیب اختر، محمد حفیظ، میزبان فخرِ عالم اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی بھارتی رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنا ناگزیر ہے۔
اگرچہ بھارت نے میچ جیت لیا، مگر تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے کرکٹ کی اقدار اور روایات پر عمل پیرا ہوکر اخلاقی فتح حاصل کی۔ پی سی بی کی شکایت کے بعد اب نظر آئی سی سی اور ایم سی سی کے فیصلے پر مرکوز ہے کہ کھیل کی ان روایات کا کس طرح دفاع کیا جائے گا۔