اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پیر کے روز اعلان کیا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رہے گا۔
یہ فیصلہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے دوسرے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کی۔ کمیٹی نے فیصلے سے قبل ملکی اور عالمی معاشی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
زرعی نقصانات اور مہنگائی کا خدشہ
ماہرین معیشت کے مطابق حالیہ سیلابوں نے پاکستان کے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اہم فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ اس صورتحال میں ملک کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بعض اجناس درآمد کرنا پڑیں گی، جس سے درآمدی بل بڑھے گا اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
ان چیلنجز کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک نے معیشت میں استحکام لانے کے لیے شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ پالیسی ریٹ کو مسلسل 11 فیصد پر رکھا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ موجودہ شرح سود برقرار رکھنے سے مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے اور معیشت کو سہارا دینے میں مدد ملے گی۔
حالیہ سروے میں 92 فیصد شرکاء نے توقع ظاہر کی تھی کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس سے قبل 30 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں بھی کمیٹی نے شرح سود کو برقرار رکھا تھا اور بڑھتی ہوئی توانائی لاگت خصوصاً گیس ٹیرف کو فیصلہ کن وجہ قرار دیا تھا۔
کاروباری برادری کا ردعمل
اگرچہ یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا، لیکن کاروباری حلقوں نے اس پر تنقید کی ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ مسلسل بلند شرح سود سے قرض لینے کی لاگت بڑھ رہی ہے، جس سے پیداواری اخراجات اور مسابقتی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض نے کہا کہ شرح سود برقرار رکھنے سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا اور اس سے برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے۔