اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی 2021 کی مبینہ آڈیو لیک سے متعلق دائر درخواست کو خارج کر دیا، جس میں اس آڈیو کی حقیقت جانچنے کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
جسٹس محمد آصف نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب کیس کال ہوا تو درخواست گزار کی جانب سے کوئی پیش نہ ہوا، لہٰذا یہ درخواست عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہے۔
یہ درخواست سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر صلاح الدین احمد نے دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ آڈیو کی سچائی اور اس کے اثرات جانچنے کے لیے آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے۔
کیس کا پس منظر
نومبر 2021 میں ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پانامہ کیس کے فیصلے سے متعلق ہدایات دے رہے ہیں۔ یہ وہی مقدمہ تھا جس کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔
آڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ملک میں شدید سیاسی بحث چھڑ گئی۔ ناقدین نے الزام لگایا کہ یہ آڈیو عدلیہ کے سیاسی مقدمات میں جانبداری کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ ثاقب نثار کے حامیوں نے اسے جھوٹا اور سیاسی طور پر بنایا گیا مواد قرار دیا۔
اس وقت کئی ماہرین قانون، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ انہی مطالبات کے تحت صلاح الدین احمد نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی۔ بعد ازاں، اس درخواست پر دلائل سننے کے بعد اُس وقت کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
تاہم تازہ سماعت میں درخواست گزار کی غیرحاضری کے باعث عدالت نے درخواست خارج کر دی، یوں مبینہ آڈیو لیک سے متعلق یہ عدالتی باب بھی بند ہوگیا۔