اسلام آباد کے پوش سیکٹر ای-7 میں بندروں کی یلغار، مکین شدید پریشان

اسلام آباد – وفاقی دارالحکومت کے مہنگے ترین رہائشی سیکٹر ای-7 کے رہائشی ان دنوں بندروں کی یلغار سے سخت پریشان ہیں۔ مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع اس پوش علاقے میں بندروں کے حملے روز مرہ زندگی کو غیر محفوظ اور مشکل بنا رہے ہیں۔ متعدد واقعات میں خواتین اور بچوں پر حملے کی اطلاعات ملی ہیں جن کے باعث لوگ اپنے معمولات ترک کرنے پر مجبور ہیں۔

رہائشیوں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں بندروں کا رویہ مزید جارحانہ ہوگیا ہے۔ “اب یہ بندر بغیر کسی خوف کے لوگوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ میں خود دو مرتبہ واک کے دوران ان کا نشانہ بننے سے بال بال بچا،‘‘ ایک شہری نے بتایا۔ خواتین نے بھی شکایت کی ہے کہ انہیں اپنی چہل قدمی کے راستے بدلنے پڑے ہیں۔

مکینوں کے مطابق اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ لوگوں کا بندروں کو کھانا کھلانا ہے جس سے ان کی فطری عادات متاثر ہوئیں۔ گیٹ کیپرز اور گھریلو ملازمین بھی یہ عمل کرتے ہیں جبکہ باہر سے آنے والے افراد اور سیاح انہیں دانہ ڈال کر تفریح حاصل کرتے ہیں۔ کھلے کچرے کے ڈھیر بھی بندروں کو راغب کرتے ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد نے خوراک کی کمی پیدا کی ہے جس سے ان کا رویہ مزید جارحانہ ہوگیا ہے۔

“ہمارے صحن میں لگے پھل دار درختوں کا پھل ہمیں نصیب ہی نہیں ہوتا کیونکہ بندر سب کھا جاتے ہیں۔ چھتوں پر ان کے جست لگانے سے یوں لگتا ہے جیسے کوئی دھماکہ ہوا ہو،‘‘ ایک رہائشی نے شکوہ کیا۔

مکینوں نے انتظامیہ سے مستقل حل کا مطالبہ کیا ہے۔ تجاویز میں “بندروں کو کھانا کھلانا منع ہے” کے سائن بورڈ، پہاڑیوں پر پھل دار درخت لگانا اور سی ڈی اے کی براہِ راست مداخلت شامل ہیں۔ بعض نے بندروں کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے کِلنگ پروگرام کی تجویز بھی دی ہے۔

رہائشی اب کمیٹی بنا کر سی ڈی اے حکام کو خط لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری کارروائی نہ کی تو مکین خود دفاعی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں