اسلام آباد کی عدالت کا سابق صدر عارف علوی کے خلاف ایف آئی اے کو کارروائی کا حکم

اسلام آباد: اسلام آباد کی عدالت نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج شفقّت شہباز راجہ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا ہے تو ایف آئی اے قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت دی ہے کہ وہ معاملے میں تمام قانونی تقاضے پورے کرے۔

یہ درخواست شہزاد عدنان نے اپنے وکیل مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی تھی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عارف علوی نے بیرون ملک اپنے ایک خطاب میں توہین آمیز کلمات استعمال کیے، جس پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ درخواست گزار نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایف آئی اے کو پہلے ہی درخواست دی گئی تھی لیکن کوئی اقدام نہیں کیا گیا، جس کے باعث عدالت سے رجوع کیا گیا۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ سابق صدر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

یہ معاملہ عارف علوی کی ایک مبینہ تقریر سے شروع ہوا، جو انہوں نے بیرون ملک کی تھی اور جس میں ریاستی اداروں پر تنقید کی گئی۔ مخالفین کا مؤقف ہے کہ یہ ریمارکس اداروں کی حرمت کو مجروح کرتے ہیں۔ اس تقریر کے بعد ایف آئی اے کو شکایات موصول ہوئیں کہ علوی نے ایسے بیانات دیے جو اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کی توہین کے زمرے میں آتے ہیں۔ تاہم ایف آئی اے نے مقدمہ درج نہیں کیا اور معاملہ عدالت میں لے جایا گیا۔ عارف علوی، جو 2018 سے 2023 تک پاکستان کے 13ویں صدر رہے، اپنے عہدہ صدارت کے بعد بھی کھلے انداز میں بیانات دینے کی وجہ سے اکثر سیاسی مخالفین کی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ یہ کیس بھی پی ٹی آئی قیادت کو درپیش بڑھتے ہوئے قانونی دباؤ کا حصہ ہے، خصوصاً اس وقت جب چیئرمین عمران خان کو قید اور دیگر رہنماؤں کو مقدمات کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں