غزہ شہر میں اسرائیلی حملے، 30 عمارتیں تباہ، ہزاروں بے گھر

اسرائیلی فورسز نے غزہ شہر میں کم از کم 30 رہائشی عمارتیں تباہ کر دیں اور ہزاروں فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا، مقامی حکام نے اتوار کو اطلاع دی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خطے میں پہنچے تاکہ اسرائیلی قیادت کے ساتھ تنازع کے مستقبل پر بات چیت کر سکیں۔

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ شہر پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں تقریباً دس لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں، اور حالیہ دنوں میں حملوں میں شدت آئی ہے۔ روبیو نے کہا کہ واشنگٹن کی اولین توجہ غزہ میں حماس کے قبضے میں موجود 48 یرغمالیوں کی رہائی پر ہے، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا یقین ہے، اور ساتھ ہی تباہ حال ساحلی پٹی کی بحالی پر بھی بات کی جائے گی۔

“جو ہو گیا، سو ہو گیا،” روبیو نے روانگی سے قبل کہا۔ “ہم اسرائیلی قیادت سے ملاقات کریں گے اور مستقبل پر بات کریں گے۔” وہ منگل تک اسرائیل میں قیام کریں گے اور اس دوران وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ یروشلم کی مغربی دیوار پر حاضری دینے اور باضابطہ مذاکرات کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے قطر میں اسرائیلی حملے نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ امریکی حکام نے اس حملے کو یکطرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ تو اسرائیل کے مفاد میں تھا اور نہ ہی امریکا کے۔ جمعہ کے روز روبیو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے ملاقات کی اور اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

دریں اثنا، نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے منصوبے پر دستخط کیے ہیں، جو فلسطینیوں کے مستقبل کی ریاست کے لیے دعویٰ کردہ علاقے کو کاٹتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام امریکا کی ثالثی سے طے پانے والے ابراہیم معاہدوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جن کے تحت یو اے ای اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آئے تھے۔

ادارۂ امداد کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ شہر پر قبضہ کر لیا تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ غذائی قلت پہلے ہی سنگین ہے، اور اتوار کو غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید دو فلسطینی بھوک اور غذائی کمی سے جاں بحق ہو گئے۔ اس طرح ایسے اسباب سے اموات کی تعداد کم از کم 422 ہو گئی ہے، جن میں 145 بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں 11 ہفتے تک خوراک کی ترسیل مکمل طور پر روک دی تھی۔ جولائی کے آخر سے کچھ امداد داخل ہونے دی گئی ہے، مگر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ اسرائیل نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہر چھوڑ دیں تاکہ زمینی کارروائی میں توسیع سے قبل علاقے خالی ہو سکیں، تاہم اب بھی لاکھوں لوگ وہیں موجود ہیں جبکہ دسیوں ہزار لوگ جنوب کی طرف جا چکے ہیں۔ حماس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ غزہ شہر نہ چھوڑیں۔

اسرائیلی افواج کئی ہفتوں سے مشرقی نواحی علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں، جہاں کم از کم تین بستیوں کو کھنڈر بنا دیا گیا ہے۔ اب فوج مرکزی اور مغربی حصوں کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں بیشتر بے گھر خاندانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ بہت سے لوگ جنوب منتقل ہونے سے گریزاں ہیں کیونکہ وہاں نہ جگہ ہے اور نہ ہی سلامتی۔ بعض نقل مکانی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے جبکہ کچھ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ پیر کو قطر میں ہونے والی عرب رہنماؤں کی میٹنگ اسرائیل پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ اپنا منصوبہ ترک کرے۔

“بمباری ہر طرف بڑھ گئی، ہم نے خیمے اکھاڑ دیے، بیس سے زیادہ خاندان ہیں، ہمیں معلوم نہیں کہاں جائیں،” غزہ شہر کے بے گھر شہری مصبح الکافرنہ نے کہا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے گزشتہ ہفتے کے دوران غزہ شہر پر پانچ بڑے فضائی حملے کیے، جن میں 500 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں مبینہ حماس تنصیبات، سرنگوں کے دہانے اور اسلحہ ذخائر شامل ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تازہ حملوں میں کم از کم 40 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 28 صرف غزہ شہر میں مارے گئے۔

حماس کے مطابق 11 اگست سے اب تک اسرائیل نے کم از کم 1,600 رہائشی عمارتیں اور 13,000 خیمے تباہ کر دیے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق اسرائیل کی تقریباً دو سال سے جاری مہم میں اب تک 64 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں