صدر آصف علی زرداری آج چیانگدو سے میانیانگ ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے سفر کر کے 121 کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً نصف گھنٹے میں طے کر گئے۔ دورانِ سفر صدر کو ٹرین کی کارکردگی، خدمات، حفاظتی نظام اور ماحولیاتی فوائد کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ چین اب دنیا کا سب سے بڑا ہائی اسپیڈ ریلوے نیٹ ورک چلا رہا ہے، جس کی کل لمبائی 45,000 کلومیٹر سے زائد ہے اور یہ سالانہ دو ارب سے زیادہ مسافروں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں ٹرینیں 350 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلتی ہیں اور تقریباً تمام بڑے چینی شہروں کو جوڑتی ہیں۔ چین نے ایک معیاری اور مخصوص مسافر نظام قائم کیا ہے جو جدید رابطے کی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
صدر زرداری نے چین کی پائیدار اور مضبوط ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کامیابیوں کو سراہا، جن میں آلودگی سے پاک بجلی پر چلنے والی ٹرینیں اور زلزلے کی ابتدائی وارننگ ٹیکنالوجیز شامل ہیں، اور انہیں ریلوے انجینئرنگ کا شاہکار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدتیں دیگر ممالک بشمول پاکستان کے لیے اہم سبق فراہم کرتی ہیں۔
صدر کے ہمراہ پاکستان کے سفیر برائے چین، جناب خلیل ہاشمی؛ پاکستان میں چین کے سفیر، جناب جیانگ زائی ڈونگ، جو پورے دورے کے دوران صدر کے ہمراہ ہیں؛ اور سینیٹر سلیم مندوی والا بھی تھے۔ میانیانگ پہنچنے پر صدر آصف علی زرداری کا استقبال جناب وو ہاؤ، وائس میئر میانیانگ نے کیا۔