نیپال میں ایک غیر متوقع گروہ — ایک سابق ڈِسک جاکی (ڈی جے) اور اس کی غیر معروف غیر سرکاری تنظیم — ملک کی حالیہ سیاسی ہلچل کے پیچھے سب سے طاقتور قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ 36 سالہ سودان گرونگ، جنہوں نے “ہامی نیپال” (ہم نیپال ہیں) کے نام سے ادارہ قائم کیا تھا، نے گیمرز اور نوجوانوں میں مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر مظاہرے منظم کیے، جنہوں نے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور ایک نئی عبوری قیادت کی راہ ہموار کی۔
منتظمین اور شرکاء کے مطابق یہ تحریک ڈسکارڈ میسجنگ ایپ اور انسٹاگرام کے ذریعے تیزی سے پھیلی۔ اگرچہ حکومت نے بعض پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی تھی، کارکنوں نے وی پی این استعمال کرتے ہوئے یہ رکاوٹیں عبور کیں اور احتجاج کی اپیلیں لاکھوں نوجوانوں تک پہنچائیں۔ 18 سالہ طالب علم کرن کُلونگ رائے نے بتایا: “مجھے ایک ڈسکارڈ گروپ میں شامل ہونے کی دعوت ملی جس میں تقریباً 400 ممبر تھے۔ انہوں نے ہمیں پارلیمان سے چند کلومیٹر دور احتجاجی مارچ میں شامل ہونے کو کہا۔”
جیسے جیسے احتجاج شدت اختیار کرتا گیا، ہامی نیپال کی پوسٹس قومی سطح پر اثرانداز ہونے لگیں، یہاں تک کہ سرکاری ٹی وی پر بھی ان کا حوالہ دیا گیا۔ گروپ نے سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی نشاندہی کی اور زخمیوں کے علاج کے لیے اسپتالوں کے نمبر شیئر کیے۔ چند ہی دنوں میں یہ احتجاج مہلک ثابت ہوا، درجنوں افراد مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے، جسے نیپال کی دہائیوں کی بدترین بدامنی قرار دیا جا رہا ہے۔
احتجاج کے بعد ہامی نیپال کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا۔ اس کے رہنما — جو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کے لیے آن لائن فرضی نام استعمال کرتے ہیں — اب ملک کی سیاسی منتقلی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ گروپ کے ارکان کے مطابق انہوں نے صدر رام چندر پاؤڈل اور فوجی سربراہ کو قائل کیا کہ سابق چیف جسٹس سشیلہ کرکی کو عبوری وزیر اعظم بنایا جائے۔ کرکی، جو کرپشن کے خلاف سخت موقف رکھنے کے لیے مشہور ہیں، نیپال کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنی ہیں اور 5 مارچ کو طے شدہ انتخابات تک حکومت چلائیں گی۔
سودان گرونگ نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اعلان کیا: “میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ طاقت عوام کے پاس رہے اور ہر بدعنوان سیاستدان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔” اتوار کو وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ کابینہ کی تشکیل پر بات چیت کر رہے تھے اور سابق حکومت کے مقرر کردہ بعض عہدیداروں کو ہٹانے کی تجویز دے رہے تھے۔ انسٹاگرام پر گروپ نے کہا: “یہ عمل احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے تاکہ کابینہ میں باصلاحیت اور اہل نوجوان شامل ہوں۔”
یہ مظاہرے، جنہیں زیادہ تر “جنریشن زیڈ” تحریک کہا جا رہا ہے، اس وقت شروع ہوئے جب حکومت نے کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی — ایک فیصلہ جو بعد میں واپس لے لیا گیا۔ سڑکوں پر مظاہرین اور حکام کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 72 افراد ہلاک اور 2,100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ وزارت صحت کے ترجمان پرکاش بدھاتھوک کے مطابق: “اب بھی شاپنگ مالز، گھروں اور دیگر عمارتوں سے لاشیں برآمد ہو رہی ہیں جنہیں ہنگاموں میں آگ لگائی گئی تھی۔”
بدامنی کے دوران پارلیمان، سپریم کورٹ، پولیس چوکیوں، متعدد سرکاری عمارتوں اور اعلیٰ سیاستدانوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا، جن میں صدر پاؤڈل اور سابق وزیر اعظم اولی کے مکانات بھی شامل ہیں۔
باوجود اس کے کہ گروپ کو ملک میں غیر معمولی سیاسی طاقت مل گئی ہے، گرونگ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ وہ حکومت میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ 26 سالہ رضاکار رونیش پرادھن نے کہا: “ہم سیاستدان نہیں بننا چاہتے۔ ہم صرف قوم کی آواز ہیں اور قیادت کے عہدوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔”
گرونگ، جو پہلے ڈی جے تھے، 2015 کے زلزلے اور کووِڈ 19 وبا کے دوران عوامی خدمت اور ریلیف سرگرمیوں میں سامنے آئے تھے۔ آج وہ اور ان کی نوجوان ٹیم — جس میں کیفے کے مالک اوجسوی راج تھاپا اور قانون کے فارغ التحصیل ریحان راج ڈانگل شامل ہیں — انسٹاگرام پر 160,000 سے زائد فالوورز رکھتے ہیں۔ تھاپا نے ایک انٹرویو میں کہا: “عدلیہ آزاد نہیں ہے، اور اس کی آزادی کو یقینی بنانا عبوری حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔”
نیپال اب ایک نازک موڑ پر ہے۔ سشیلہ کرکی کی سربراہی میں عبوری حکومت اور مارچ میں طے شدہ انتخابات کے ساتھ، ملک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بدامنی کو ختم کیا جائے اور نوجوانوں کے اس دباؤ کو ایڈریس کیا جائے، جس نے پہلے ہی سیاسی منظرنامہ بدل کر رکھ دیا ہے۔