ایشیا کپ 2025 کے اہم میچ میں بھارت نے پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دے دی۔ دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس ہائی وولٹیج مقابلے میں بھارتی ٹیم نے 128 رنز کا ہدف 15.5 اوورز میں باآسانی حاصل کر لیا۔
پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں صرف 127 رنز نو وکٹوں کے نقصان پر بنا سکے۔ پاکستانی بلے بازوں نے 60 سے زائد ڈاٹ بالز کھیلیں۔ اوپنر صائم ایوب پہلی ہی اوور میں ہاردک پانڈیا کے ہاتھوں صفر پر آؤٹ ہوگئے، جبکہ 12.4 اوورز میں ٹیم کا اسکور محض 64 پر نصف کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔
صہیبزادہ فرحان نے سب سے زیادہ 41 رنز بنائے جبکہ شاہین شاہ آفریدی نے آخر میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 16 گیندوں پر 33 رنز بنائے جن میں چار بلند و بالا چھکے شامل تھے۔ تاہم کسی بھی کھلاڑی نے بڑی شراکت داری نہ کی۔
بھارتی باؤلرز نے شاندار باؤلنگ کی۔ کلدیپ یادو نے تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ جسپریت بمراہ اور اکشر پٹیل نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستانی بیٹنگ لائن دباؤ میں رہی اور بڑے شاٹس کھیلنے میں ناکام رہی۔
ہدف کے تعاقب میں بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے 47 رنز بنائے اور آخر میں ایک شاندار چھکے کے ساتھ میچ ختم کیا۔ ابھیشیک شرما اور تلک ورما نے 31، 31 رنز کی اننگز کھیلیں۔ پاکستان کی جانب سے صرف صائم ایوب ہی کامیاب بولر رہے جنہوں نے تمام تین وکٹیں حاصل کیں۔
اسٹیڈیم کا ماحول پرجوش تھا جہاں دونوں ممالک کے شائقین نے اپنی ٹیموں کی بھرپور حمایت کی، مگر جیت بھارتی شائقین کے حصے میں آئی۔
یہ پاک-بھارت ٹیموں کے درمیان اس سال مئی کی فوجی جھڑپ کے بعد پہلا کرکٹ میچ تھا۔ ایشیا کپ کی تاریخ میں دونوں ٹیمیں اب تک 20 بار آمنے سامنے آ چکی ہیں جن میں بھارت نے 11 اور پاکستان نے 6 میچ جیتے، جبکہ 3 میچ بے نتیجہ رہے۔
پاکستانی شائقین اس شکست پر شدید مایوسی کا شکار دکھائی دیے۔ کئی افراد نے بابر اعظم اور محمد رضوان کی غیر موجودگی کو نقصان قرار دیا، جبکہ دیگر نے طنزیہ انداز میں مئی کی لڑائی یاد کی جب پاکستانی افواج نے بھارتی طیارے مار گرائے تھے۔
پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ ناکامی نے بھارت کو ایشیا کپ میں ایک آسان جیت دے دی اور ان کی مہم کا شاندار آغاز ہوا۔