بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہفتے کے روز پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کا آئندہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) جائزہ مشن اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا حکومت کی مالی پالیسی اور ہنگامی اقدامات اس بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر ہیں یا نہیں۔
آئی ایم ایف کے پاکستان میں نمائندہ مہیر بینچی نے کہا:
“یہ مشن اس بات کا جائزہ لے گا کہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ، اس کے اخراجات کی تقسیم اور ہنگامی شقیں سیلاب کی وجہ سے پیدا ہونے والی اضافی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی لچکدار ہیں یا نہیں۔”
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اب تک فلیش فلڈز میں 972 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ سیلاب پنجاب میں کھیتوں، مویشیوں اور گھروں کو تباہ کر چکا ہے اور اب سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے غذائی افراطِ زر اور عوامی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ادھر رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے توقع ہے کہ وہ پیر کو اپنی کلیدی شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھے گا کیونکہ پالیسی ساز فصلوں کی تباہی سے پیدا ہونے والے افراطِ زر کے خطرات اور سست معیشت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کے اندازے کے مطابق زرعی نقصانات رواں سال کی شرح نمو میں 0.2 فیصد پوائنٹس تک کمی کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ تعمیر نو سے پیدا ہونے والی طلب اس کمی کا جزوی طور پر ہی ازالہ کر پائے گی۔
مئی میں آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.4 ارب ڈالر کے نئے قرض کی منظوری دی تھی تاکہ ملک کو ماحولیاتی چیلنجز اور قدرتی آفات کے خلاف لچکدار بنایا جا سکے۔ تاہم فنڈز کی فراہمی ای ایف ایف کے تحت کامیاب جائزوں سے مشروط ہے۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کو ہنگامی اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل المدتی حکمت عملیوں پر بھی کام کرنا ہوگا۔