وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور کی سیشن عدالت میں جمعہ کے روز اپنے 10 ارب روپے کے ہرجانہ کیس کی سماعت کے دوران مؤقف اپنایا کہ عمران خان کے خلاف دائر ہتک عزت کیس میں جرح جلد مکمل کی جائے تاکہ مزید تاخیر نہ ہو۔
یہ کیس 2017 میں اُس وقت دائر کیا گیا تھا جب عمران خان نے الزام لگایا تھا کہ پاناما کیس میں خاموش رہنے کے لیے شہباز شریف نے انہیں 10 ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔ شہباز شریف نے اس الزام کو “بے بنیاد اور جھوٹا” قرار دے کر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے جج سے براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے کہا:
“کل میں قطر کے خصوصی دورے پر تھا لیکن یہ کیس سننے کے لیے راتوں رات واپس آیا ہوں۔ جج صاحب! آپ بہت مصروف ہیں اور کئی دوسرے کیسز بھی زیرِ سماعت ہیں، مگر میں ایک گھنٹے سے یہاں بیٹھا ہوں۔ ملک اس وقت تباہ کن سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جو اب سندھ میں داخل ہو رہا ہے۔ وفاق اور صوبوں کو مل کر اس ایمرجنسی کا مقابلہ کرنا ہے۔ میری گزارش ہے کہ آج ہی اس کیس میں جرح مکمل کی جائے تاکہ کارروائی آگے بڑھ سکے۔”
دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ شہباز شریف کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس کی رسیدوں پر ان کا نام درج نہیں اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ نوٹس کس نے وصول کیا۔
اس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ نوٹس بذریعہ کورئیر بھیجا گیا تھا، جس کی تمام رسیدیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ شہباز شریف نے وضاحت دی:
“جی ہاں، رسیدوں پر میرا نام درج نہیں لیکن میرے وکیل کا نام موجود ہے۔ جو رسیدیں موجود ہیں وہ سب عدالت کے سامنے ہیں اور یہی ریکارڈ ہے۔”
یہ مقدمہ کئی برسوں سے تاخیر کا شکار ہے، تاہم شہباز شریف بارہا عدالت سے سماعت جلد مکمل کرنے کی استدعا کر چکے ہیں جبکہ دفاعی فریق قانونی نوٹس اور شواہد کی قانونی حیثیت پر اعتراضات اٹھا رہا ہے۔