اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تین سال بعد گھریلو صارفین کے لیے نئے گیس کنکشن کی اجازت دے دی، جس سے لاکھوں زیر التواء درخواستوں کا معاملہ حل ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق گھریلو صارفین کو اب نئے کنکشن درآمدی ایل این جی ٹیرف پر فراہم کیے جائیں گے، اور اس عمل کا آغاز آئندہ مالی سال میں کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق گھریلو کنکشن کیلئے ڈیمانڈ نوٹس فیس 18 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ ارجنٹ کنکشن کے لیے 80 ہزار روپے فیس لی جائے گی۔ ملک بھر میں اس وقت 35 لاکھ گھریلو درخواستیں زیر التواء ہیں، جن میں سے بیشتر سوئی ناردرن میں 2017 سے رکی ہوئی ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق صرف ڈھائی لاکھ صارفین نے 3 سے 10 ہزار روپے فیس جمع کروا رکھی ہے جبکہ 4 ہزار درخواست گزاروں نے فی کس 25 ہزار روپے ارجنٹ فیس بھی ادا کی تھی۔ ان تمام درخواست گزاروں کو اب اضافی ادائیگی کرنا ہوگی تاکہ پالیسی کے مطابق کنکشن فراہم کیے جا سکیں۔
حکام نے بتایا کہ 5 سے 10 مرلے کے گھروں کے لیے ایل این جی کنکشن کا تخمینہ 40 ہزار روپے ہوگا، جبکہ 10 مرلے سے زائد گھروں کو 23 ہزار روپے ڈیمانڈ نوٹس اور 20 ہزار روپے سیکیورٹی فیس دینا لازمی ہوگا۔ کنکشن صرف اسی صارف کو دیا جائے گا جو مکمل رقم پیشگی جمع کرائے گا۔
ایک اور بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ ایک سال میں ایک لاکھ کنکشن کی حد ختم کر دی گئی ہے، اور اب میٹرز صرف گیس کی دستیابی کے مطابق لگائے جائیں گے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد گیس کمپنیاں جلد ہی صارفین کو باضابطہ طور پر آگاہ کریں گی۔
یہ فیصلہ حکومت پر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں ملک زیادہ تر مہنگی درآمدی ایل این جی پر انحصار کر رہا ہے۔