پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل اس وقت عبور ہوا جب پہلی بار صرف خواتین پر مشتمل کوہ پیما ٹیم نے گلگت بلتستان کی 5,400 میٹر بلند چوٹی باری لا سر کرلی۔ اس کامیابی کو نہ صرف ایک کھیلوں کی فتح قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے خواتین کے کردار کو ایڈونچر اسپورٹس میں اجاگر کرنے والا اہم لمحہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
یہ 10 رکنی ٹیم ملک کے تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین پر مشتمل تھی۔ شرکاء میں بی بی افضون اور زیبا بتول (گلگت بلتستان)، بسمہ حسن اور اقرا جیلانی (پنجاب)، مدیحہ سید (سندھ)، مونا خان (آزاد کشمیر)، ماریہ بنگش (خیبر پختونخوا)، شاہین خان اور آمنہ شبیر (اسلام آباد) جبکہ لاریب بتول (بلوچستان) شامل تھیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے نائب صدر کرار حیدری کے مطابق “پاکستان کے بلند پہاڑوں میں تاریخ رقم ہوئی ہے۔” ان کے مطابق الپائن کلب کے زیر اہتمام اور سرپرستی میں یہ مہم کامیابی سے مکمل ہوئی۔ ٹیم نے باری لا چوٹی کو بدھ کے روز سر کیا، اس سے قبل انہیں مشہور کوہ پیماؤں ساجد اور اشرف سدپارہ کی زیر نگرانی صدپارہ ماؤنٹینئرنگ ٹریننگ اسکول میں بنیادی تربیت دی گئی۔ ساجد، اشرف، فدا علی اور شریف سدپارہ اس مہم کے رہنما بھی تھے۔
کرار حیدری نے کہا کہ یہ مہم صرف کوہ پیمائی نہیں بلکہ ایک علامت ہے کہ پاکستانی خواتین کسی بھی رکاوٹ کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ عزم اور حوصلے کے ساتھ خواتین ایڈونچر اسپورٹس میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
شرکاء میں سے کئی خواتین پہلی بار اتنی بلند چوٹی سر کرنے نکلی تھیں۔ مدیحہ سید، جو ایک ایوارڈ یافتہ ڈاکیومنٹری فلم ساز ہیں اور ماؤنٹ کلیمنجارو (5,895 میٹر) بھی سر کرچکی ہیں، نے بتایا کہ “زیادہ تر لوگ باری لا کی نچلی چوٹی پر ہی رک جاتے ہیں، لیکن ساجد سدپارہ کی بدولت ہماری ٹیم اصل چوٹی تک پہنچی۔” تاہم مدیحہ بیماری کے باعث 5,000 میٹر پر واپس لوٹ آئیں۔
بہت سی خواتین کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ وہ 5,000 میٹر سے بلند چوٹی پر پہنچی ہوں۔ مونا خان، جو ایک صحافی ہیں، نے کہا: “میرے لیے یہ خواب کے پورا ہونے جیسا لمحہ تھا۔ جب میں چوٹی پر کھڑی تھی تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میں نے اتنی دشوار گزار اور برف پوش پہاڑی سر کر لی ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے اس تاریخی کامیابی پر ٹیم کو مبارکباد دی اور انہیں وزیراعظم ہاؤس مدعو کیا تاکہ ان کی ہمت اور لگن کو سراہا جا سکے۔
الپائن کلب کے بیان میں کہا گیا: “آنے والے برسوں میں پاکستان کے عظیم پہاڑ ان خواتین کے قدموں کی گونج سنیں گے جو خواب دیکھنے کی ہمت رکھتی ہیں۔”