دریائے ستلج پر شدید دباؤ، گنڈا سنگھ والا پر بہت اونچے درجے کا سیلاب

تربیلا اور منگلا بھر گئے، سندھ کے بیراجوں پر اونچے درجے کے سیلاب کی پیش گوئی

وزارتِ آبی وسائل کے مطابق تربیلا ڈیم 27 اگست سے مکمل طور پر بھرا ہوا ہے اور اس وقت اس کا لیول 1550 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منگلا ڈیم بھی 92 فیصد سے زیادہ بھر چکا ہے جس کا موجودہ لیول 1234.60 فٹ ہے۔

وفاقی فلڈ کمیشن (ایف ایف سی) نے آئندہ 12 گھنٹوں میں بڑے خطرات کی پیش گوئی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گڈو بیراج پر اونچے درجے کا، سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔

پنجاب میں بھی دریاؤں کی صورتحال تشویشناک ہے۔ دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دریائے چناب میں پنجند بیراج پر غیر معمولی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے ستلج اس وقت سب سے زیادہ دباؤ میں ہے جہاں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہت اونچے درجے کا، جبکہ سلیمانکی اور اسلام ہیڈ ورکس پر اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاع دی گئی ہے۔

یہ صورتحال غیر معمولی مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے جس کے باعث پاکستان کے آبی ذخائر میں ریکارڈ مقدار میں پانی داخل ہوا۔ تربیلا اور منگلا ڈیم اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش تک بھر چکے ہیں جس کے بعد مزید پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

فلڈ کمیشن کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائے ستلج اور چناب میں آنے والے بھاری پانی کے اخراج نے بھی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ سندھ اور جنوبی پنجاب کے نشیبی علاقے اور زرعی زمینیں متاثر ہو سکتی ہیں اگر بیراجوں سے پانی کا اخراج مزید بڑھایا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں