اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے جمعرات کو قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور پولیس سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں۔
سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلیمان صفدر نے استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت کے لیے بڑا بنچ تشکیل دیا جائے۔ جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ بڑے بنچ کی تشکیل کا فیصلہ مقدمات کی تفصیلات موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
سماعت کے موقع پر عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ بیرسٹر سلیمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ یہ درخواست دو سال قبل دائر کی گئی تھی جب نیب، ایف آئی اے اور دیگر ادارے عمران خان کو نوٹسز بھیج رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو بانی پی ٹی آئی اور جماعت کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جو آئین کی خلاف ورزی اور سیاسی انتقام کی مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو سال گزرنے کے باوجود صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اب تک عمران خان کے خلاف 127 مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ درست تعداد جاننے کے لیے عدالت کو مدعا علیہان سے مکمل ریکارڈ طلب کرنا چاہیے۔ انہوں نے بڑے بنچ کی تشکیل کی درخواست دہراتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی انتقام کے تین کیسز میں بڑے بنچ تشکیل دیے گئے تھے۔ سلیمان صفدر نے سائفر کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ ایف آئی اے نے بنایا، سزا سنائی گئی، مگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں یہ سزا کالعدم قرار دی۔
نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر عبدالرّفے نے کہا کہ مقدمات کی تازہ تفصیلات فراہم کرنے کے لیے وقت دیا جائے۔ انہوں نے بڑے بنچ کی تشکیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں ایسا کوئی جواز موجود نہیں جس کی بنیاد پر بڑا بنچ بنایا جائے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ بڑے بنچ کے بارے میں فیصلہ مقدمات کی تفصیلات آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ عدالت نے نیب، ایف آئی اے اور پولیس سے ریکارڈ طلب کرنے کے بعد سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔