اسلام آباد ہائیکورٹ نے بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود خاتون کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئی۔ انہوں نے استدعا کی کہ معاملہ اگلے ہفتے سماعت کے لیے لگایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے مگر کم از کم بشریٰ بی بی کی حد تک جلد سماعت ضروری ہے۔
عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے سزا معطلی کی درخواستیں جلد مقرر کرنے کی ہدایت دی۔
اسی دوران جسٹس محمد اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی کی اس درخواست پر سماعت کی جس میں نیب، ایف آئی اے اور پولیس کی کارروائیاں روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے تینوں اداروں سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف درج مقدمات کی تازہ رپورٹس طلب کر لیں۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اور دیگر وکلاء عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کی بہنیں، بشمول علیمہ خان، بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔
وکیل صفدر نے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی جس کی نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے مخالفت کی۔ پراسیکیوٹر رافع مقصود نے کہا کہ کیسز کا سارا ریکارڈ موجود ہے، اس لیے لارجر بینچ کی کوئی ضرورت نہیں۔
سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف 127 مقدمات درج ہو چکے ہیں اور اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درخواست دو سال قبل دائر کی گئی تھی مگر اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے نے سائفر کیس میں سزا دلوائی تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں ختم کر دیا۔ اب یہ جاننا ضروری ہے کہ کتنے مقدمات میں سزا ہو چکی ہے، کتنے میں چالان جمع ہو گیا ہے اور کتنے زیرِ سماعت ہیں۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ مقدمات کی تفصیلات موصول ہونے کے بعد لارجر بینچ کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا، فی الحال ترجیح یہ ہے کہ مقدمات کی درست تعداد اور حیثیت واضح ہو۔