اسلام آباد کی عدالت نے یوٹیوب چینلز کی بندش کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے جمعرات کو جوڈیشل مجسٹریٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس میں متعدد یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے صحافیوں اور یوٹیوبرز کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے چینلز کی بحالی کا راستہ ہموار کر دیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے معروف صحافیوں مطیع اللہ جان، اسد طور، عبدالقادر سمیت دیگر یوٹیوبرز کی درخواستیں منظور کر لیں۔

یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب جوڈیشل مجسٹریٹ نے 27 یوٹیوب چینلز کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے پر صحافی برادری اور آزادی اظہار کے حامی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی اور اسے آزادی صحافت و آن لائن اظہار رائے پر قدغن قرار دیا گیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف مجموعی طور پر 11 یوٹیوبرز نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔ اپیل کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ مجسٹریٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا اور آئین میں دی گئی آزادی اظہار اور میڈیا کی آزادی کو نظرانداز کیا۔

سیشن کورٹ نے اپنے فیصلے میں 11 زیرِ سماعت اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ آن لائن جرنلزم اور ڈیجیٹل کری ایٹرز کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جنہیں حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی آن لائن پابندیوں کا سامنا ہے۔

عدالتی فیصلے کو مستقبل میں دیگر یوٹیوبرز کے مقدمات پر بھی اثرانداز سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ واضح کرتا ہے کہ عدالتیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بندش میں کہاں تک اختیار رکھتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں