اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ٹک ٹاکر سمعیہ حجاب کے مبینہ اغوا اور دھمکیوں کے کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے مرکزی ملزم حسن زاہد کی ضمانت خارج کر دی۔
عدالت کے حکم کے بعد پولیس نے نہ صرف اغوا کے مقدمے میں کارروائی تیز کی بلکہ حسن زاہد کو ایک نئے مقدمے میں بھی گرفتار ظاہر کر دیا۔ پولیس نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے مزید تفتیش درکار ہے، اس لیے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ تاہم عدالت نے پولیس کی یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
یہ مقدمہ اُس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر مشہور ٹک ٹاکر سمعیہ حجاب نے الزام لگایا کہ ملزم حسن زاہد نے انہیں اغوا کیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کی تھیں۔
کیس نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی، جہاں صارفین نے متاثرہ خاتون کے حق میں آواز بلند کی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب پولیس پر یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا کہ وہ مقدمے کی شفاف تحقیقات میں سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
اب عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد حسن زاہد کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے عندیہ دیا ہے کہ مزید ثبوت سامنے آنے پر نئے پہلوؤں پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس پیش رفت کو کیس کے اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔