وفاقی کابینہ نے نئے گیس کنکشنز بحال کر دیے، ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں نئے گھریلو گیس کنکشنز کی بحالی کی منظوری دے دی ہے، جس پر 2021 میں پابندی عائد کی گئی تھی۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ عوام کے پرزور مطالبے پر کیا گیا ہے، خصوصاً ان نئی ہاؤسنگ اسکیموں کے رہائشیوں کے لیے جہاں لوگ ایل پی جی سلنڈرز اور مہنگے متبادل ایندھن استعمال کرنے پر مجبور تھے۔

وزیر نے بتایا کہ سوئی ناردن اور سوئی سدرن کمپنیاں پہلے ہی میٹرز اور پائپ لائنز کی خریداری مکمل کر چکی ہیں اور سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد فوری طور پر زیر التواء درخواستوں پر عملدرآمد شروع کر دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کو آر ایل این جی پر مبنی کنکشن لینے کا بھی اختیار دیا جائے گا، جس کے لیے اوگرا کو مقررہ سکیورٹی فیس جمع کرانی ہوگی۔

علی پرویز ملک کے مطابق اگرچہ آر ایل این جی گھریلو قدرتی گیس سے مہنگی ہے، تاہم یہ ایل پی جی کے مقابلے میں 30 سے 35 فیصد سستی ہوگی، جس سے گھریلو صارفین کو ریلیف ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آر ایل این جی کا اضافی ذخیرہ اور بجلی کی مناسب دستیابی موجود ہے لیکن حکومت توانائی کے شعبے میں بہتر حکمرانی اور پائیداری کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گھریلو گیس کی تلاش کے لیے ایک بولی کا عمل مکمل ہو چکا ہے جبکہ ایک اور جلد مکمل ہو جائے گا۔ اس موقع پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی دلچسپی لے کر 2021 میں عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ عوامی مطالبے کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزیر پیٹرولیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو صارفین کو درپیش طویل مشکلات اب ختم ہو جائیں گی۔

وزیر پیٹرولیم نے یہ بھی بتایا کہ حکومت ترکیہ، چین اور امریکا سمیت بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں آن شُور اور آف شُور گیس تلاش کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہی ہے تاکہ مقامی پیداوار بڑھائی جا سکے اور مہنگی درآمدی گیس پر انحصار کم ہو۔

سیلاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ذاتی طور پر نقصانات کے تخمینے کی نگرانی کر رہے ہیں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

دوسری جانب کابینہ نے ملک میں ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان بھی کیا۔ طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ برسوں سے جنگلات کی کٹائی اور دریاؤں و نالوں پر قبضوں نے قدرتی راستے تنگ کر دیے، جس کے باعث سیلابی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ ماحولیاتی تبدیلی کو 15 دن میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جس کی روشنی میں کابینہ مستقبل کی حکمت عملی طے کرے گی تاکہ قوم کو بڑے نقصانات سے بچایا جا سکے۔

چوہدری نے بتایا کہ 2022 سے اب تک خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پنجاب سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کر چکے ہیں جبکہ اب پانی دریاؤں کے ذریعے سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

زرعی ایمرجنسی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب نے زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ایمرجنسی نقصان کے تخمینے اور کسانوں کے معاوضے کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی اور زرعی مسائل صوبائی حکومتوں کے تعاون کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے وزیراعظم نے فوری طور پر چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی قیادت کو مشترکہ اجلاس میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مشترکہ حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں