پاکستان نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی، تاکہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملوں پر غور کیا جا سکے۔ یہ درخواست پاکستان نے صومالیہ اور الجزائر کے ساتھ مل کر جمع کرائی، جسے اسلام آباد نے ’’غیر قانونی اور بلااشتعال اسرائیلی جارحیت‘‘ قرار دیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان برادر ملک قطر کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ قطر نے بھی اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ‘‘ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ قطر اور مصر گزشتہ دو برس سے جاری غزہ تنازعے میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے حملے کے بعد اپنے مخالفین کو متنبہ کیا کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں محفوظ نہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے کہا کہ ’’اسرائیل کا طویل بازو جہاں بھی دشمن ہوں، ان کے خلاف کارروائی کرے گا‘‘۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سات اکتوبر 2023 کے حماس حملے میں ملوث تمام افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
حماس کے مطابق، دوحہ میں ہونے والے فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں حماس کے اعلیٰ مذاکرات کار خلیل الحیہ کا بیٹا اور ایک قریبی ساتھی، تین محافظ اور ایک قطری سیکیورٹی افسر شامل تھے۔ تاہم، حماس کے اہم رہنما خلیل الحیہ اور سابق سربراہ خالد مشعل محفوظ رہے۔ تنظیم نے اعلان کیا کہ ’’دشمن اپنے مقاصد میں ناکام رہا‘‘۔
یہ حملہ عالمی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بنا، یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکا نے قطر کو پیشگی وارننگ دی تھی، لیکن دوحہ کے مطابق یہ اطلاع اس وقت پہنچی جب حملہ پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ ٹرمپ نے کہا: ’’یہ فیصلہ میرا نہیں بلکہ وزیراعظم نیتن یاہو کا تھا‘‘۔ انہوں نے قطر کو امریکا کا قریبی اتحادی قرار دیا لیکن یہ بھی کہا کہ حماس کا خاتمہ اب بھی ایک ’’قابلِ قدر مقصد‘‘ ہے۔
اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ یہ قطر پر نہیں بلکہ حماس پر حملہ تھا، اور اسرائیل کو ہمیشہ امریکی مفادات کو ترجیح دینے کی ضرورت نہیں۔ اسی دوران، اسرائیل کے امریکی سفیر یحییل لیٹر نے کہا کہ اگر اس بار حماس کی قیادت کو ختم نہیں کیا گیا، تو آئندہ موقع پر یہ ضرور کیا جائے گا۔
ادھر غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری رہی۔ بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں ایک اور بلند رہائشی عمارت کو تباہ کر دیا، جس سے دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ شہری ملبے میں اپنی بچی کھچی اشیاء تلاش کرتے رہے۔ اقوام متحدہ نے گزشتہ ماہ غزہ شہر اور اطراف میں قحط کا اعلان کیا تھا، جہاں دو ملین سے زائد افراد شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
یورپی یونین کی صدر ارسلا فان ڈیر لین نے کہا کہ وہ ’’انتہا پسند‘‘ اسرائیلی وزراء پر پابندیاں لگانے اور تجارتی تعلقات محدود کرنے کی کوشش کریں گی۔ ان کے مطابق: ’’غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔‘‘ تاہم، اسرائیلی وزیر خارجہ گدیعون سار نے الزام لگایا کہ یورپ ایسے پیغامات دے رہا ہے جو ’’حماس اور شدت پسندوں کو تقویت دیتے ہیں‘‘۔
قطر کے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ان کا ملک اس حملے کے جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اسے ’’خطے کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ‘‘ قرار دیا۔ روس اور چین نے بھی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں متاثر ہوں گی۔
اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی کے نتیجے میں اب تک 64 ہزار 600 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کارروائی کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دے رہی ہیں، تاہم اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔