نیپال منگل کو شدید سیاسی بحران کا شکار ہوگیا جب وزیرِاعظم کے پی شرما اولی بڑے پیمانے پر انسدادِ بدعنوانی احتجاج کے دباؤ میں مستعفی ہوگئے۔ یہ احتجاج زیادہ تر نوجوانوں کی قیادت میں ہوا اور پیر کے روز پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 19 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ یہ بدامنی حالیہ دہائیوں کی بدترین صورتِ حال قرار دی جا رہی ہے۔
بدعنوانی اور بیروزگاری پر غصہ کئی برسوں سے بڑھ رہا تھا، لیکن حالات اس وقت بھڑک اُٹھے جب اولی حکومت نے اچانک سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی۔ مظاہرین نے کٹھمنڈو میں غیر معینہ کرفیو کو توڑتے ہوئے پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ پولیس نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں چلائیں، جس کے بعد ہلاکتیں اور زخمیوں کی تعداد بڑھ گئی۔ حکومت نے بعد میں پابندی ہٹا دی، مگر احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
اولی، جو 73 برس کے ہیں، نے صدر رام چندر پاؤڈیل کو اپنے استعفے میں لکھا: ’’میں موجودہ بحران کا سیاسی حل نکالنے اور آئین کے مطابق مسائل کو حل کرنے کے لیے آج سے مستعفی ہو رہا ہوں۔‘‘ اس طرح ان کی چوتھی وزارتِ عظمیٰ کا اختتام ہوگیا۔ صدر پاؤڈیل نے نئے وزیرِاعظم کی تلاش کا عمل شروع کردیا ہے اور احتجاجی قیادت کو بھی مذاکرات کی دعوت دی ہے، جبکہ فوج کے سربراہ جنرل اشوک سگڈیل قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔
پارلیمنٹ کے باہر خبر ملتے ہی نوجوانوں نے جشن منایا۔ ہجوم نے عمارت میں داخل ہو کر نعرے لگائے اور دیواروں پر بڑے حروف میں ’’ہم جیت گئے‘‘ لکھ دیا۔ سڑکوں پر لوگ تاحال موجود رہے مگر اس دوران تشدد دیکھنے میں نہیں آیا کیونکہ سکیورٹی فورسز نے فاصلہ اختیار کیا۔
اولی نے اس سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلایا تھا اور کہا تھا کہ مسائل کا حل پُرامن بات چیت میں ہے، تاہم انہوں نے بدعنوانی کے الزامات پر براہِ راست ردعمل نہیں دیا۔ اسی دوران ان کی کابینہ کے دو وزراء ’’اخلاقی بنیادوں‘‘ پر مستعفی ہوگئے۔ مگر احتجاجی باز نہ آئے۔ انہوں نے ٹائروں کو آگ لگائی، پولیس پر پتھراؤ کیا اور سیاستدانوں کے گھروں پر حملے کیے۔ مقامی میڈیا کے مطابق وزیرِاعظم کی نجی رہائش گاہ اور سنگھ دربار کمپلیکس — جہاں پارلیمنٹ اور اہم وزارتیں واقع ہیں — کو بھی آگ لگائی گئی۔ بعض وزراء کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
کٹھمنڈو کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی دھوئیں کے باعث بند کرنا پڑا۔ مظاہرے دیگر شہروں تک پھیل گئے جنہیں منتظمین نے ’’جنریشن زی‘‘ کے احتجاج قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک بدعنوانی اور حکومتی ناکامی کے خلاف ہے، جبکہ لاکھوں نوجوان نوکریاں نہ ملنے کے باعث مشرقِ وسطیٰ، ملائیشیا اور جنوبی کوریا جا کر محنت مزدوری کر رہے ہیں اور زرِمبادلہ وطن بھیجتے ہیں۔
نوجوان طویل عرصے سے سوشل میڈیا پر سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے خاندانوں کی پرتعیش زندگیوں پر تنقید کرتے آ رہے تھے۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے متعدد پلیٹ فارمز بند کر دیے، جس نے آگ پر تیل کا کام کیا۔
اقوامِ متحدہ نے بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ ’’تشدد حل نہیں،‘‘ اور پولیس کے مبینہ غیرضروری طاقت کے استعمال کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سرکاری عمارتوں اور اہلکاروں پر حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ نوجوانوں کی آواز کو پُرامن طریقے سے سنا جانا چاہیے۔
اولی کے مستعفی ہونے کے بعد نیپال کو اب ایک مشکل راستہ درپیش ہے: نیا قیادت تلاش کرنا، امن بحال کرنا اور نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے مطالبات کا کوئی دیرپا حل دینا۔