لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے منگل کے روز سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کئی سینئر رہنماؤں، جن میں ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ شامل ہیں، کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی۔
یہ مقدمات 9 مئی 2023 کے پُرتشدد واقعات سے متعلق تھے، جن میں لاہور میں جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے اور راحت بیکری چوک پر سپریم کورٹ کے ایک جج کی کار جلانے کے واقعات شامل تھے۔ ان مقدمات کی سماعت کوٹ لکھپت جیل میں جج منظر علی گل نے کی۔
عدالت نے پی ٹی آئی کی کارکن اور فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کو 5 سال قید کی سزا سنائی، تاہم روبینہ جمیل اور افشاں طارق کو راحت بیکری کیس میں بری کر دیا گیا۔ وکیل رانا مدثر کے مطابق جناح ہاؤس کیس میں مجموعی طور پر 51 ملزمان نامزد تھے، جن میں سے 12 مفرور قرار دیے گئے جبکہ باقی 39 کا ٹرائل مکمل ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ 9 مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، جن میں سرکاری عمارتوں، پولیس گاڑیوں اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا۔ مظاہرین نے لاہور کور کمانڈر ہاؤس اور راولپنڈی میں جی ایچ کیو کو بھی نشانہ بنایا۔ ان واقعات کے بعد ریاست نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا اور درجنوں مقدمات درج کیے۔
یہ فیصلہ پی ٹی آئی قیادت کے خلاف حالیہ عدالتی کارروائیوں کی ایک کڑی ہے۔ گزشتہ ماہ فیصل آباد کی ایک خصوصی اے ٹی سی نے عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل سمیت متعدد رہنماؤں کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ان رہنماؤں سمیت کئی قانون سازوں کو ڈی نوٹیفائی کر دیا، جس سے جماعت کو مزید سیاسی دھچکا لگا۔
شاہ محمود قریشی ایک بار پھر بری ہو گئے ہیں جبکہ دیگر رہنما طویل قید کی سزاؤں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں 9 مئی کے کیسز اب بھی پی ٹی آئی کے مستقبل کی سیاست کو شکل دے رہے ہیں، جبکہ بانی عمران خان بدعنوانی اور دہشتگردی کے کئی مقدمات میں جیل میں موجود ہیں۔