ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی حکام لاکھوں شہریوں کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے غیر ملکی کمپنیوں سے حاصل کردہ جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں، جس سے نجی زندگی اور انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ منگل کو جاری ہونے والی تنظیم کی رپورٹ “شیڈوز آف کنٹرول: پاکستان میں سنسرشپ اور ماس سرویلنس” کے مطابق حکام نے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور سیاستدانوں کو بھی غیر قانونی طور پر مانیٹر کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاستی ادارے “لا فل انٹرسپٹ مینجمنٹ سسٹم” (LIMS) کے ذریعے ٹیلی کام آپریٹرز کی مدد سے بڑے پیمانے پر عوام کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ ایمنسٹی کے ماہر جُرے وان بیرگ نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ملک کی چاروں بڑی موبائل کمپنیاں اس نظام سے منسلک ہیں، جس کی وجہ سے زیر نگرانی صارفین کی اصل تعداد رپورٹ سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے مبینہ طور پر ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے کم از کم دو فیصد صارفین کو ہر وقت نگرانی کے لیے دستیاب رکھیں۔
یہ نظام، جو جرمن کمپنی “اوٹیمیکو” نے تیار کیا، 2007 سے پاکستان میں استعمال میں ہے۔ اس کے ذریعے فون کالز، پیغامات اور انٹرنیٹ استعمال کو ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اور پھر ان معلومات کو “مونیٹرنگ سینٹر نیکسٹ جنریشن” (McNG) کے ذریعے پراسیس کیا جاتا ہے، جو “ڈیٹافیوزن” (سابقہ ٹروویکور) کا تیار کردہ نظام ہے۔ اس کے ذریعے حکام یہ جان سکتے ہیں کہ کس نے کس سے بات کی، کب رابطہ ہوا، کون سی ویب سائٹس دیکھی گئیں، واٹس ایپ یا وی پی این استعمال ہوا یا نہیں اور صارف کی لوکیشن کیا تھی۔
ایمنسٹی نے نشاندہی کی کہ اتنے بڑے پیمانے پر نگرانی کے باوجود قانونی اور تکنیکی حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت سامنے آیا جب 2022 اور 2023 میں سیاستدانوں اور دیگر شخصیات کی خفیہ گفتگو کی آڈیوز لیک ہوئیں اور بشریٰ بی بی بنام فیڈریشن آف پاکستان کیس میں اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو پابند کیا تھا کہ وہ اپنے اخراجات پر یہ نظام درآمد اور نصب کریں تاکہ ادارے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال اظہار رائے کی آزادی اور نجی زندگی پر “ٹھنڈا اثر” ڈال رہی ہے اور شہری آزادیوں کو محدود کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ “ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025” کے نفاذ کے بعد شہریوں کے سماجی، معاشی اور حکومتی ڈیٹا کو مرکزی شکل دینے سے یہ نگرانی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ادھر انٹرنیٹ پر سنسرشپ کے لیے “ویب مانیٹرنگ سسٹم” (WMS) استعمال ہوتا ہے۔ اس کا تازہ ترین ورژن، جو چینی کمپنی “گیج نیٹ ورکس” نے تیار کیا، بیک وقت 20 لاکھ سیشن بلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے چین کے “گریٹ فائر وال” کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ یہ نظام امریکی، فرانسیسی اور چینی کمپنیوں کی مدد سے پاکستان میں نصب کیا گیا۔
پی ٹی اے نے 2016 سے اب تک 14 لاکھ سے زائد ویب لنکس بلاک کیے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ صارفین کو عام طور پر پیشگی اطلاع نہیں دی جاتی۔ ایمنسٹی نے بتایا کہ 2016 سے 2024 کے دوران پاکستان میں کم از کم 77 بار انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ہوا، جن میں 24 واقعات 2024 میں پیش آئے۔ ان میں سے کئی کا تعلق عام انتخابات اور سیاسی جلسوں سے تھا، جب اپوزیشن کی ویب سائٹس، بشمول پی ٹی آئی کی، بلاک کر دی گئیں۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں، جیسے گیج نیٹ ورکس، اوٹیمیکو، ڈیٹافیوزن اور نیاگرا نیٹ ورکس، پاکستان میں نگرانی اور سنسرشپ کو ممکن بنا کر انسانی حقوق کی پامالی میں شریک رہی ہیں۔ تنظیم نے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر یہ ڈیجیٹل دباؤ بے لگام رہا تو ملک میں جمہوری آزادی مزید سکڑ جائے گی۔