گردشی قرضہ 1.7 کھرب روپے تک پہنچنے پر ہنگامی فنانسنگ ڈیل

اسلام آباد: پاور ڈویژن نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کے جزوی خاتمے کے لیے بینکوں سے 1.225 کھرب روپے کے قرض کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ گردشی قرضہ، جو ایک وقت میں 2.5 کھرب روپے تک جا پہنچا تھا، اس وقت کم ہو کر تقریباً 1.7 کھرب روپے رہ گیا ہے لیکن اب بھی حکومت کے لیے سنگین مالی بوجھ بنا ہوا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق 18 بینکوں کے ساتھ اس مالیاتی پیکیج کی تمام قانونی و انتظامی کارروائیاں مکمل ہوچکی ہیں۔ تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی)، پاور ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے بورڈ پہلے ہی ان معاہدوں کی منظوری دے چکے ہیں۔ ایک اعلیٰ افسر نے تصدیق کی کہ ’’تمام قانونی تقاضے، دستاویزات اور ضمانتیں اب دستیاب ہیں۔‘‘

یہ مالیاتی پیکیج 1.225 کھرب روپے پر مشتمل ہے، جو وفاقی کابینہ کی جانب سے پہلے منظور شدہ 1.275 کھرب روپے سے کچھ کم ہے۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ 50 ارب روپے کا یہ فرق چینی سی پیک پاور پروڈیوسرز کی جانب سے لیٹ پیمنٹ سرچارج کے ممکنہ خاتمے سے نہیں جڑا بلکہ قسطوں کے ڈھانچے سے متعلق ہے۔ حکومت نے سہ ماہی ادائیگیوں کو 310 ملین روپے پر محدود کیا ہے، جس کے نتیجے میں کل رقم 1.225 کھرب روپے بنتی ہے۔ اگر یہ حد 325 ملین روپے مقرر کی جاتی تو کل رقم 1.275 کھرب روپے ہو جاتی، لیکن اس صورت میں پہلے ہی حساس ڈیٹ سروسنگ سرچارج 3.23 روپے فی یونٹ مزید بڑھ جاتا جس کے سیاسی اثرات سنگین ہوسکتے تھے۔

کل قرضے میں سے 659 ارب روپے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) کے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیے جائیں گے۔ باقی رقم کا مصرف ابھی طے نہیں ہوا کہ آیا یہ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز)، پیٹرولیم سیکٹر یا سبسڈی ایڈجسٹمنٹس کے لیے استعمال ہوگی۔ اسی لیے پاور ڈویژن نے وزیرِاعظم سے رہنمائی طلب کی ہے۔ توقع ہے کہ معاہدوں پر دستخط کی تقریب وزیرِاعظم ہاؤس میں ہوگی۔

معاہدوں پر دستخط کے بعد حکومت کو 30 دن کے اندر بینکوں سے رقم نکالنے کی درخواست دینا ہوگی، اور نکالی گئی رقم فوری طور پر استعمال کرنا لازمی ہوگا تاکہ جرمانے سے بچا جا سکے۔ اس کے بعد مزید تین ماہ کا وقت ہوگا جس میں حکومت رقم استعمال کرسکے گی۔ اس مرحلے پر حکومت یہ جانچنے کی کوشش کرے گی کہ کون سے آئی پی پیز، مقامی یا چینی، بقایاجات پر رعایت دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ عمل وزیرِاعظم کے حالیہ دورۂ چین سے پہلے نہیں کیا جا سکا تاکہ کسی قسم کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

ان معاہدوں میں شامل 18 بینکوں کے نام یہ ہیں: میزان بینک، حبیب بینک، نیشنل بینک آف پاکستان، الائیڈ بینک، یونائیٹڈ بینک، فیصل بینک، بینک الحبیب، ایم سی بی بینک، بینک الفلاح، دبئی اسلامک بینک، بینک آف پنجاب، بینک اسلامی، عسکری بینک، حبیب میٹرو پولیٹن بینک، البرکہ بینک، بینک آف خیبر، ایم سی بی اسلامک اور سونیری بینک۔

وفاقی کابینہ پہلے ہی پاور ڈویژن کی متعدد تجاویز کی منظوری دے چکی ہے جن میں سی پی پی اے-جی کو ڈسکوز کی جانب سے گردشی قرضے کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے بااختیار بنانا، بجلی کے ایکٹ، سیلز ٹیکس ایکٹ اور انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم کو آئندہ فنانس بل میں شامل کرنا، اور بجٹ میں مختص خطیر رقوم جاری کرنا شامل ہے۔ ان میں 267 ارب روپے فوری طور پر جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ 393 ارب روپے کا ضمنی گرانٹ بھی پاور ڈویژن کو فراہم کیا جائے گا۔

مزید برآں، سی پی پی اے-جی کو سرکاری بجلی گھروں کے واجبات کی ادائیگی، پی ایچ ایل کے 683 ارب روپے کے قرضوں کی ریٹائرمنٹ، اور آئی پی پیز کو ادائیگی کے لیے بااختیار بنایا گیا ہے، بشرطیکہ وہ لیٹ پیمنٹ سرچارج معاف کریں۔ اسی کے ساتھ ’’پاکستان انرجی سکوک رولز 2019‘‘ میں ترمیم کی منظوری بھی دی گئی ہے تاکہ سکوک کو قبل از وقت ریڈیم کیا جا سکے۔

یہ قرضہ جاتی پیکیج حکومت کے نزدیک بجلی کے شعبے میں مالی استحکام لانے اور توانائی کی ادائیگیوں پر اعتماد بحال کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار بروقت عمل درآمد اور پاور پروڈیوسرز کے تعاون پر ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں