کاروباری سرگرمیاں متاثر، سست انٹرنیٹ کا سلسلہ برقرار

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے پیر کے روز تصدیق کی کہ جدہ، سعودی عرب کے قریب سمندری کیبل کٹ جانے کے باعث پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کی مکمل حد جاننے کے لیے ابھی جائزہ جاری ہے۔

اپنے بیان میں وزیر نے بتایا کہ وہ اس صورتحال کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ’’سست انٹرنیٹ کاروباروں کو متاثر کر رہا ہے‘‘ اور مزید کہا کہ تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یہ بیان پی ٹی سی ایل کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی پانیوں میں انٹرنیٹ کی سمندری کیبل کٹنے سے پاکستان میں خاص طور پر مصروف اوقات کے دوران انٹرنیٹ متاثر ہوسکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ رکاوٹ دو بڑی بین الاقوامی کیبل سسٹمز—ایس ایم ڈبلیو 4 اور آئی ایم ای ڈبلیو ای—کی بینڈوڈتھ صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے، جو پاکستان کو دنیا کے انٹرنیٹ نیٹ ورک سے جوڑتے ہیں۔

پی ٹی سی ایل نے مزید کہا کہ بین الاقوامی شراکت دار ترجیحی بنیادوں پر مرمت پر کام کر رہے ہیں جبکہ مقامی ٹیموں نے متبادل بینڈوڈتھ کا انتظام کر کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ مرمت کرنے والی بین الاقوامی ایجنسیاں ابھی تک بحالی کے لیے کوئی حتمی مدت فراہم نہیں کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کیبل کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘

یہ خلل صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں بھی صارفین نے ریڈ سی میں کیبل کٹنے کے بعد انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے کی شکایات کی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 70 فیصد ایسے واقعات جہازوں کے اینکر کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ ریڈ سی ایک نہایت اہم عالمی ٹیلی کمیونیکیشن کوریڈور سمجھا جاتا ہے جہاں مرمت کا عمل نہایت پیچیدہ اور وقت طلب ہوتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مارچ 2024 میں اسی خطے میں تین سمندری کیبلز کو نقصان پہنچا تھا، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ اور کلاؤڈ سروسز میں وسیع پیمانے پر رکاوٹ پیدا ہوئی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں