عدلیہ کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج کے ایک اور اشارے کے طور پر، سپریم کورٹ کے چار ججوں نے پیر کے روز سپریم کورٹ رولز 2025 کی منظوری اور نظرثانی کے طریقہ کار پر سنگین اعتراضات اٹھائے۔
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کے نام لکھے گئے خط میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقصد کے لیے بلایا گیا فل کورٹ اجلاس محض ایک “اسٹامپ آف اپروول” ہے، کیونکہ قواعد پہلے ہی یکطرفہ طور پر منظور اور گزٹ میں شائع ہوچکے ہیں۔
جج صاحبان نے واضح کیا کہ 9 اگست کو قواعد بذریعہ سرکولیشن منظور کیے گئے اور نوٹیفائی بھی ہوگئے، مگر اس کے بعد چیف جسٹس نے مزید ترامیم کی تجاویز طلب کیں۔ ان کے مطابق یہ پورا عمل آئینی طور پر درست نہیں، کیونکہ آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت قواعد سازی کا اختیار سپریم کورٹ بطور ادارہ رکھتی ہے، کسی ایک شخصیت کو یہ اختیار حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ فل کورٹ کی منظوری کے بغیر تیار ہونے والے قواعد قانونی حیثیت نہیں رکھتے اور “عملی و آئینی طور پر ناقص” ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ سرکولیشن انتظامی سہولت کے لیے استعمال ہوسکتی ہے لیکن عدالت کے نظامِ حکمرانی کے بنیادی ڈھانچے کا فیصلہ اس ذریعے سے نہیں ہوسکتا۔
خط میں کہا گیا کہ رول 1(4) کا حوالہ دے کر “مشکلات کے ازالے” کی شق شامل کرنا دراصل یکطرفہ عمل کو جواز دینے کی کوشش ہے، حالانکہ ایسی کوئی مشکل سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ جج صاحبان نے اسے “غلط اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے قواعد کو نوٹیفائی کرنا اور بعد میں فل کورٹ کو صرف ترامیم کے لیے طلب کرنا “گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے کے مترادف ہے”۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ فل کورٹ اجلاس کو ایک “کاسمیٹک” عمل بنا کر صرف پہلے سے کیے گئے فیصلوں کو جائز دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق درست آئینی طریقہ یہی تھا کہ مکمل قواعد فل کورٹ کے سامنے رکھے جاتے، بحث و مباحثہ ہوتا اور پھر منظوری دی جاتی۔
چاروں ججوں نے اعلان کیا کہ وہ ایسے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے اور مطالبہ کیا کہ ان کے اعتراضات فل کورٹ کی کارروائی میں شامل کیے جائیں اور عوام کے سامنے لائے جائیں۔ ان کے بقول، عوام کا یہ جاننا حق ہے کہ سپریم کورٹ کے داخلی اصول کیسے بغیر اجتماعی مشاورت کے منظور کرلیے گئے۔
اس سے قبل جسٹس منصور علی شاہ نے الگ خط میں سوال اٹھایا تھا کہ 1980 کے تاریخی قواعد کی ترمیم بذریعہ سرکولیشن کیوں کی گئی، جبکہ اسے فل کورٹ میں تفصیلی بحث کے بعد ہونا چاہیے تھا۔
پس منظر کے طور پر بتایا گیا کہ مارچ میں چیف جسٹس نے 1980 کے قواعد کے نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس نے 2025 کے نئے قواعد کا مسودہ تیار کیا۔ اس کا مقصد شفافیت اور عدالتی کارروائی میں بہتری لانا تھا۔ تاہم، مسودہ جب ججوں کے درمیان سرکولیٹ ہوا تو کچھ سینئر ججوں اور وکلا برادری نے اس پر اعتراضات کیے، جس کے بعد آج فل کورٹ اجلاس بلایا گیا۔