پاکستان میں عید میلادالنبی ﷺ عقیدت و احترام کے ساتھ، ولادت کے 1500 سال مکمل ہونے پر خصوصی تقاریب

پاکستان بھر میں ہفتے کے روز عید میلادالنبی ﷺ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس برس کی تقریبات کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل رہی کہ یہ حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے 1500 سال مکمل ہونے کی یادگار سالگرہ تھی۔ اس موقع پر قوم نے یومِ دفاع بھی منایا، جس سے دن کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق دن کا آغاز اسلام آباد میں 31 توپوں اور تمام صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ نمازِ فجر کے بعد خصوصی دعائیں مانگی گئیں جن میں امتِ مسلمہ کے اتحاد اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعا کی گئی۔ ملک بھر کی مساجد، گلیوں اور بازاروں کو سبز جھنڈوں، برقی قمقموں اور رنگ برنگی سجاوٹ سے مزین کیا گیا۔ مختلف شہروں میں جلوس، محافل نعت اور سیرت النبی ﷺ کانفرنسز کا اہتمام کیا گیا، جن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بازاروں اور محلوں میں روشنیوں کے ساتھ رونق کا سماں رہا۔ جگہ جگہ اسٹالز لگائے گئے جہاں پرچم، بیجز اور بینرز فروخت کیے گئے، جبکہ مختلف کمیونٹی گروپس اور فلاحی اداروں نے لنگر اور اجتماعی میلوں کا بھی اہتمام کیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے موقع کی مناسبت سے سیکیورٹی اور سہولت کے خصوصی انتظامات کیے۔

اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام پچاسویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ علما، مشائخ اور سرکاری نمائندوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا اور مسئلہ فلسطین و کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ کانفرنس کا موضوع تھا: “ریاست کی ذمہ داریاں: سوشل میڈیا کے مفید استعمال کے لیے تعلیم و تربیت، سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں”۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستانی قوم کو چاہیے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ملک کو اتحاد، انصاف، رواداری اور امن کی بنیاد پر تعمیر کرے۔ انہوں نے کہا کہ 1500 سالہ تاریخی موقع کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منظور ہونے والی قراردادوں کے تحت منایا جا رہا ہے، جس سے یہ عزم جھلکتا ہے کہ سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کو آئین، قوانین اور عوامی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی طرزِ حکمرانی، عدل و انصاف، معیشت، تجارت اور سماجی اقدار کے لیے مکمل نمونہ ہے۔ وزیرِاعظم نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اخلاقیات، رحمت اور سچائی جیسی ابدی اقدار کو اپنائیں اور نبی کریم ﷺ کے امن و بھائی چارے کے پیغام کے سفیر بنیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ واریت، انتہا پسندی اور نفرت کو ترک کر کے رواداری اور اتحاد کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

اسی طرح صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں امتِ مسلمہ کو عید میلادالنبی ﷺ کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ 12 ربیع الاول نہ صرف خوشی اور عقیدت کا دن ہے بلکہ یہ موقع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں عدل، رحمت، بھائی چارے اور مساوات کا درس دیتی ہے، جو ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔

صدر نے زور دیا کہ موجودہ عالمی مسائل — جیسے انتہا پسندی، ناانصافی، معاشرتی بے چینی اور ڈیجیٹل دور کے منفی اثرات — کا حل سیرتِ طیبہ ﷺ کی تعلیمات میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اپنے اختلافات بھلا کر اتحاد و یگانگت کے ساتھ ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔

انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی اور حالیہ سیلابی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی لیتے ہوئے اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی دل کھول کر مدد کریں اور ان کی بحالی کو یقینی بنائیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ دوسروں کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھا۔

ملک بھر میں یہ دن نہ صرف مذہبی جوش و جذبے بلکہ قومی یکجہتی کے ساتھ منایا گیا۔ گھروں سے لے کر گلی محلوں اور شہروں تک چراغاں ہوا، نعت خوانی کی محافل سجیں اور یہ عزم دہرایا گیا کہ حضور اکرم ﷺ کے پیغامِ رحمت، محبت اور عدل کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں