ہائی کورٹ نے سی ڈی اے کا پلاٹ منسوخی کا حکم معطل کر دیا

اسلام آباد –
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کی جانب سے مختلف سیکٹرز میں پلاٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
جسٹس محمد اعظم خان نے عمر رانا اور دیگر دس شہریوں کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب تک فریقین کا مؤقف نہیں سنا جاتا، پلاٹس کی منسوخی کا حکم مؤخر رہے گا۔
درخواست گزاروں کے وکیل عادل عزیز قاضی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلین نے یہ پلاٹس اصل الاٹیز سے قانونی طریقے سے خریدے تھے، اور سی ڈی اے نے خود تمام ضابطے مکمل کرنے کے بعد منتقلی کی منظوری دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل الاٹیز کی کسی ممکنہ بے ضابطگی کی سزا موجودہ مالکان کو دینا غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے۔

درخواست گزاروں نے مزید کہا کہ سی ڈی اے نے نہ تو کسی بے ضابطگی کی نشاندہی کی اور نہ ہی کسی اصل الاٹی یا متعلقہ اہلکار کے خلاف کارروائی کی، بلکہ موجودہ مالکان کو پلاٹس سے محروم کر دیا گیا جو ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔عدالت نے سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 6 اکتوبر 2025 مقرر کی ہے۔ عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ جواب کی نقل درخواست گزاروں کے وکیل کو بھی فراہم کرے۔
یاد رہے کہ سی ڈی اے نے 28 جولائی 2025 کو جاری کردہ حکم نامے میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں 300 سے زائد پلاٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی تھی، جو ایک دہائی قبل متاثرین کو دیے گئے تھے۔ بعد ازاں ان پلاٹس کو قانونی طور پر مختلف شہریوں نے خرید لیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں